مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی قدرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعور حقیقت پکار اٹھے۔ خدا یہ بھی تیری رحمتوں کا ہی ایک کرشمہ ہے۔ ورنہ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔ یہ اکتشافی طریقہ غیر معمولی حکمت پر مبنی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسانوں کے اندر سرگرمیاں وجود میں آتی ہیں۔ اسی کے ذریعہ فکری اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ اسی عمل کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے کہ انسانی شخصیت ابتدائی حالت سے ترقی کر کے اعلیٰ انسانی درجہ تک پہنچ سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسان بھی اسی طرح یکساں ذہنی حالت پر ٹھہر کر رہ جائے گا جیسا کہ ہم حیوانات کی مثال میں دیکھتے ہیں۔ حقیقت کا اعتراف قرآن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اس کے مطابق، قدیم مصر کی ایک معزز خاتون نے حضرت یوسف کو بہکانا چاہا، جو اس وقت ایک نوجوان تھے۔ حضرت یوسف اس کے بہکاوے میں نہیں آئے اور اپنے لئے پاکبازی کے طریقہ کا انتخاب کیا۔ اس پر وہ عورت بگڑ گئی اور اس نے ان پر الزام لگا کر انھیں قید خانہ بھجوادیا۔ مگر بعد کو حقیقت کھلی اور یہ ثابت ہوا کہ حضرت یوسف بے قصور تھے۔ مذکورہ معزز خاتون اگرچہ مجبور نہ تھی تاہم اس کا ضمیر جاگ اٹھا اور اس نے صاف لفظوں میں کہا کہ : اب حق کھل گیا۔ میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور بلاشبہ وہ سچا ہے۔ (یوسف ۵۱) اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ مصری خاتون اگرچہ وقتی طور پر اپنے جذبات سے مغلوب ہو گئی تھی مگر اس کی فطرت زندہ تھی اور اس کے اندر انسانی صفات موجود تھیں۔ چنانچہ جب معاملہ واضح ہوا تو وہ پکار اٹھی کہ میں ہی غلطی پر تھی، اس معاملہ میں یوسف کی کوئی غلطی نہیں۔ یہ اعتراف سب سے بڑی انسانی صفت ہے۔ جس عورت یا مرد میں اعتراف کا مادہ ہو اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader