Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی نہ کسی مرحلہ میں خدا کی مدد حاصل ہوگی اور وہ حق کو پا جائے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ اعتراف کی انسانی صفت کھودیں، وہ گمراہی میں جیتے رہیں گے اور آخر کار اسی حال میں مر جائیں گے۔ 12-050 غیر مسلم حکومت میں قرآن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا جو قصہ بیان ہوا ہے، اس کا ایک جزء یہ ہے کہ مصر کا مشرک بادشاہ ایک خاص مرحلہ میں ان کی شخصیت سے متاثر ہو گیا اور ان کو اپنے قریبی معززین میں شامل کرنا چاہا۔ اس وقت حضرت یوسف نے گفتگو کے دوران بادشاہ سے کہا کہ : مجھ کو ملک کے خزانوں پر مقرر کر دو، میں نگہبان ہوں اور جاننے والا ہوں (یوسف (۵۵) بادشاہ نے اس کو منظور کر لیا۔ چنانچہ حضرت یوسف مصر کے اس مشرک بادشاہ کی حکومت میں ایک اعلیٰ وزیر کے منصب پر فائز ہوگئے۔ پیغمبر کے اس واقعہ سے یہ شرعی اصول اخذ ہوتا ہے کہ غیر مسلم حکومت کے تحت ایک مسلمان کے لئے ذمہ دارانہ عہدہ کو قبول کرنا اصولاً بالکل جائز ہے، حتی کہ حسب حال وہ ایسا بھی کر سکتا ہے کہ خود اپنی طرف سے اس حکومتی عہدہ پر اپنے تقرر کی تجویز پیش کرے ۔ 12-051 نصرت کا اصول حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کم عمری میں ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ سوداگروں کے ایک قافلہ نے ان کو کنویں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جا کر انھیں غلام کی حیثیت سے بیچ دیا۔ اس کے بعد آپ کے ساتھ مختلف قسم کے واقعات پیش آئے جن کا ذکر قرآن میں (اور بائبل میں) آیا ہے۔ مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہ وقت آیا جب کہ ان کو مصر میں وہ اعلیٰ حیثیت حاصل ہو گئی جس کا قرآن میں اس طرح ذکر کیا گیا ہے : اور ہم نے یوسف کو ملک میں با اختیار بنا دیا وہ اس میں جہاں چاہے جگہ بنائے۔ ہم جس پر چاہیں اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page