مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
عنایت متوجہ کریں۔ (یوسف ۵۲) آخری مرحلہ میں پورے قصہ کا خلاصہ حضرت یوسف کی زبان سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ ایسے محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (یوسف ۹۰) تقویٰ یہ ہے کہ آدمی زندگی کی جدوجہد کے دوران ہمیشہ حق پر قائم رہے، وہ کسی بھی حال میں حق سے انحراف نہ کرے۔ دوسری چیز یہ کہ وہ زندگی کے مراحل میں صبر و تحمل سے کام لے۔ نتیجہ میں تاخیر کو دیکھ کر وہ بے صبر نہ ہو جائے۔ جو لوگ تقویٰ اور صبر کی ان دونوں صفتوں کے حامل ہوں وہ اللہ کے نزدیک محسنین، یعنی حسن عمل والے لوگ ہیں۔ ایسے لوگ بہر حال اللہ کی نصرت کے حق دار ٹھہریں گے اور آخر کار کامیابی کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ 13-052 عروج و زوال کے اسباب قوموں کا عروج و زوال فطرت کے ایک اٹل قانون کی بنیاد پر ہوتا ہے جو اللہ نے مقرر فرمایا ہے۔ یہ قانون اس آیت سے معلوم ہوتا ہے : بے شک اللہ کسی گروہ کے ما بقوم کو نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے ما با نفس کو نہ بدل ڈالے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانا چاہتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں اور اللہ کے سوا اس کے مقابلہ میں کوئی ان کا مددگار نہیں (الرعد ۱۱) اس آیت میں مابقوم سے مراد قومی حالت ہے اور ما با نفس سے مراد اس کی انفرادی حالت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قوم کی اجتماعی حالت اس قوم کے افراد کی حالت سے بندھی ہوئی ہے۔ افراد کے اندر جتنی صلاحیت ہوگی اتنا ہی صالح معاشرہ ان کے درمیان ظہور میں آئے گا۔ اسی بات کو ایک حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ: تم لوگ جیسے ہو گے ویسے ہی تمہارے حکمراں ہوں گے (كما تكونون، كذلك يؤمر عليكم) مشكاة المصابيح ۲/ ۱۰۹۔ گویا کہ فرد اور مجتمع (سماج) کے درمیان وہی نسبت ہے جو بیچ اور فصل کے درمیان ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader