Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ جیسا بیچ ویسی ہی فصل ، اسی طرح جیسے افراد ویساہی مجتمع ۔ یہ قانون اتنا زیادہ اٹل ہے کہ اس میں کوئی استثناء نہیں۔ جس معاشرہ کے افراد کے اندر بگاڑ آجائے ، وہ معاشرہ لازماً تباہ ہو کر رہتا ہے۔ اس قانون کی زد میں آنے کے بعد کسی بھی گروہ کے لئے بچنا ممکن نہیں۔ اس قانون سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی معاشرہ کو بہتر معاشرہ بناتا ہے تو اس عمل کا آغاز کہاں سے ہوگا۔ یہ آغاز کامیاب طور پر صرف افراد کی اصلاح سے ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر معاشرہ کی سطح سے اصلاحی عمل کا آغاز کیا جائے تو خدا کی دنیا میں ایسے معکوس عمل کا انجام ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ 13-053 نفع بخشی قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھالیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لئے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔ (الرعد ١٧) اس آیت میں مادی تمثیل کے ذریعہ فطرت کے قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں قیام اور استحکام ان انسانوں کو ملتا ہے جو یہاں نفع بخشی کا ثبوت دیں۔ جو لوگ نفع بخشی کی صلاحیت کھودیں ، ان کے لئے خدا کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ ایک فرد کو اپنے خاندان میں نفع بخش بننا ہے۔ اسی طرح اس کو اپنے سماج میں نفع بخش بننا ہے، اس نفع بخشی کے بغیر کسی کو نہ اپنے خاندان میں عزت کی جگہ ملے گی اور نہ اپنے سماج میں۔ یہی معاملہ قومی زندگی اور بین الاقوامی زندگی کا ہے یہاں بھی وہی لوگ عزت کا مقام پائیں گے جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page