مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے کو نفع بخش ثابت کرسکیں۔ ایک نفع بخشی وہ ہے جو مادی معنی میں ہو۔ دوسری نفع بخشی وہ ہے جو اخلاقی معنی میں ہو۔ لیکن اس سے بڑی نفع بخشی یہ ہے کہ کوئی فرد یا گروہ دنیا والوں کو سچائی کا تحفہ پیش کر سکے۔ 13-054 اطمینان قلب قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں۔ سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرعد ۲۸) اس آیت میں ایمان سے مراد معرفت ہے اور ذکر سے مراد خدا کی پھیلی ہوئی نشانیوں پر غور کرنا ہے۔ ذکر اللہ کی تشریح کے تحت تفسیر قرطبی میں ایک قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ یعنی وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں۔ پھر وہ اللہ کے کمالات کو اپنی بصیرت سے پہچان لیتے ہیں اور اس سے ان کے دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (وقیل، بذکر الله ) أی يذكرون الله ويتأملون آياته فيعرفون كمال قدرته عن بصيرته) تفسير القرطبي ۳۱۵/۹ دل کا اطمینان کیا ہے۔ دل کا اطمینان یہ ہے کہ آدمی اس چیز کو پالے جس کو وہ پانا چاہتا تھا۔ اس کے برعکس دل کی بے اطمینانی یہ ہے کہ آدمی اس چیز کو پانے سے محروم رہے جس کو پانے کا شوق وہ اپنے دل میں لئے ہوئے تھا۔ اللہ کو چھوڑ کر کوئی آدمی دنیا کی جن چیزوں میں اطمینان ڈھونڈتا ہے وہ سب کی سب محدود اور ناقص ہیں۔ وہ انسان کی اصل طلب سے بہت زیادہ کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیوی یا مادی چیزوں کا پانا آدمی کو مطمئن نہیں کرتا۔ پانے سے پہلے آدمی ان چیزوں کے بارے میں بھرم میں رہتا ہے۔ مگر پانے کے بعد اس کا یہ بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے گویا کہ پانا اور نہ پانا دونوں اس کے لئے برابر تھا۔ مگر اللہ کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب ایک آدمی اللہ کو دریافت کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اس نے اپنے طلب کے پورے جواب کو پا لیا ہے۔ جب آدمی اللہ کو یاد کرتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader