Urdu book · مطالعہ قرآن

مطالعہ قرآن

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اور روحانی سطح پر اللہ سے اس کا تعلق قائم ہوتا ہے تو یہ اس کی پوری شخصیت کے لئے ایک مکمل یافت کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ کائنات کی نشانیوں میں جب وہ غور کرتا ہے تو اس میں اس کو اپنے فکری تقاضوں کا جواب مل جاتا ہے۔ یہی وہ اعلیٰ تجربہ ہے جس کو اس آیت میں اطمینانِ قلب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 14-055 زیادتیوں پر صبر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کی دعوتِ توحید کے بعد جب مدعو قوموں کی طرف سے منفی رد عمل سامنے آیا تو پیغمبروں کا جواب یہ تھا: اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ اس نے ہم کو ہمارے راستے بتائے۔ اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صرف صبر کریں گے۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے (ابراہیم ۱۲) تمام پیغمبروں کو اپنی مخاطب قوموں سے ایذا رسانی کا تجربہ پیش آیا۔ تمام پیغمبروں کو ان کی قوم کے لوگ ہر طرح ستاتے رہے۔ مگر تمام پیغمبروں کا مشترک رویہ صرف ایک تھا، وہ ہے، ہر قسم کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے پر امن دعوت کا سلسلہ جاری رکھنا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے، کہ دعوت کا کام ایک انتہائی مثبت کام ہے۔ وہ صرف ایسے ماحول میں جاری رہ سکتا ہے جہاں داعی اور مدعو کے درمیان اعتدال کی فضا مسلسل موجود رہے۔ اسی معتدل فضا یا پر امن ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے تمام پیغمبر یک طرفہ طور پر صبر کرتے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ہی دعوت کی قیمت ہے، جہاں صبر نہیں وہاں دعوت بھی نہیں۔ بعد کے زمانہ میں جو لوگ دعوت کا کام کریں انھیں بھی صبر کی اس روش کو مکمل طور پر اختیار کرنا ہے۔ صبر کے بغیر دعوت کا کام نہ پچھلے زمانوں میں ہوا، اور نہ وہ آئندہ زمانوں میں ہو سکتا ہے۔ دعوت کی یہ ایک ایسی شرط ہے جو کبھی اور کسی کے لئے ساقط ہونے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page