درخت کی مثال
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
درخت کی مثال قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے۔ اور جس کی شاخیں آسمان میں پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور کلمہ خبیشہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہ ہو۔ اللہ ایمان والوں کو ایک پکی بات سے دنیا اور آخرت میں مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (ابراہیم ۲۴۔۲۷) موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مختلف حقیقتوں کی ظاہری تمثیلات قائم کی ہیں۔ شجرہ طیبہ (اچھا درخت) ایک اعتبار سے مومن کی تمثیل ہے۔ درخت کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ پوری کائنات کو اپنا غذائی دستر خوان بناتا ہے اور اس طرح بیج سے ترقی کر کے وہ ایک عظیم درخت کی صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہو جاتا ہے۔ درخت زمین سے پانی اور معدنیات اور نمکیات لے کر بڑھتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہوا اور سورج سے اپنے لئے غذا حاصل کرتا ہے۔ وہ نیچے سے بھی خوراک لیتا ہے اور اوپر سے بھی۔ یہی مومن کا معاملہ بھی ہے۔ عام درخت اگر ایک مادی درخت ہے تو مومن ایک شعوری درخت۔ مومن ایک طرف دنیا میں خدا کی تخلیقات اور اس کے نظام کو دیکھ کر عبرت اور نصیحت حاصل کرتا ہے۔ دوسری طرف "اوپر" سے اس کو مسلسل خدا کا فیضان پہنچتا رہتا ہے۔ وہ مخلوقات سے بھی اپنے لئے اضافہ ایمان کی خوراک حاصل کرتا ہے اور خالق سے بھی اس کا قرب اور تعلق کا معاملہ جاری رہتا ہے۔ درخت ہر موسم میں اپنے پھل دیتا ہے۔ اسی طرح مومن ہر موقع پر وہ صحیح رویہ یا جواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader