مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
(response) ظاہر کرتا ہے جو اسے ظاہر کرنا چاہئے۔ معاشی تنگی ہو یا معاشی فراخی، خوشی کا لمحہ ہو یا غم کا، شکایت کی بات ہو یا تعریف کی بات، زور آوری کی حالت ہو یا بے زوری کی حالت، ہر موقع پر اس کی زبان اور اس کا کردار وہی رد عمل ظاہر کرتا ہے جو خدا کے سچے بندے کی حیثیت سے اسے ظاہر کرنا چاہئے۔ دوسری مثال شجرہ خبیثہ (جھاڑ جھنکاڑ) کی ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کائنات کی مذکورہ اعلی خوراک سے محروم ہے جس کے نتیجہ میں اس کے اوپر کانٹے اگتے ہیں۔ اس کی شاخوں میں کڑوے اور بد مزہ پھل لگتے ہیں۔ اس کے پاس کوئی شخص جائے تو وہ بدبو سے اس کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے درخت کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ وہ جہاں اگے وہاں سے اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ غیر مومن کا ہے۔ وہ زمین میں ایک غیر مطلوب وجود کی حیثیت سے اگتا ہے۔ کائنات اپنی تمام بہترین نشانیوں کے باوجود اس کے لئے ایسی ہو جاتی ہے کہ جیسے اس کے لئے یہاں نہ کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی نصیحت۔ خدا کا فیضان اگر چہ ہر وقت برستا ہے مگر اس کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اس کے کردار اور معاملات میں اس کا اظہار نہیں ہوتا۔ جو آدمی کلمہ توحید کو اپنائے، اس کے لئے یہ کلمہ اس کی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو خدا کا مطلوب انسان ہو۔ وہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کو پائے اور آخرت میں جنت کا مستحق قرار دیا جائے۔ 14-057 خدا کی نعمتیں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اس نے تم کو ہر چیز میں سے دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔ بے شک انسان بہت بے انصاف اور بڑا ناشکرا ہے۔ (ابراہیم ۴۲) انسان جب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو اس کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو کن کن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader