مطالعہ قرآن
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزوں کی ضرورت ہے۔ مگر بعد کو وہ حیرت انگیز طور پا پاتا ہے کہ یہاں اس کی ضرورت کی تمام چیزیں پیشگی طور پر موجود ہیں۔ زمین میں موافق قوت کشش، سورج اور ہوا اور پانی، ہوا میں آکسیجن کا ذخیرہ، زمین پر ہر قسم کی غذائیں، سفر کے لئے سواریاں، وغیرہ وغیرہ۔ اسی کے ساتھ زمین میں طرح طرح کی معدنیات جو کار اور ہوائی جہاز سے لے کر ٹیلی فون اور کمپیوٹر تک، انگنت چیزوں میں ڈھل سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کو اپنی راحت اور اپنی ضرورت کے لئے درکار تھی ان سب کو خدا نے پیشگی طور پر دنیا میں جمع کر دیا۔ یہ آیت قرآن کی صداقت پر ایک کھلی ہوئی دلیل ہے۔ نزول قرآن کے وقت اشیاء کائنات کے بارے میں انسان کی معلومات اتنی کم تھیں کہ انسان یقین کے ساتھ یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کہ اس دنیا میں خدا کی نعمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ نعمتوں کا انگنت ہونا اس وقت انسان کے لئے ایک نامعلوم بات تھی۔ یہ حقیقت پہلی بار صرف بیسویں صدی میں دریافت ہوئی۔ ایسی حالت میں دور سائنس سے پہلے کی ایک کتاب میں اس آیت کا ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک خدائی کتاب ہے نہ کہ ایک انسانی کتاب۔ کیوں کہ انسان اپنی محدود واقفیت کی بنیاد پر چودہ سو سال پہلے ایسا بیان نہیں دے سکتا تھا۔ یہ صرف خالق کائنات ہے جو ان باتوں کا علم رکھتا ہے اور ان کے بارے میں ایسا بیان دے سکتا ہے جو بعد کے زمانے کے انقلابات سے درست ثابت ہوں۔ 15-058 حفاظت قرآن قرآن میں ارشاد ہوا ہے: یقیناً ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر ۹) قرآن ۶۱۰ء میں اترنا شروع ہوا۔ اس کا آخری حصہ ۶۳۲ ء میں اترا۔ یہ پریس کے دور سے بہت پہلے کا زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت پیغمبر اور اہل ایمان کو مادی طاقتوں میں سے کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader