Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موضوع پر ایک مشہور مصنف کی کتاب السیرۃ النبوية کے نام سے چھپی ہے۔ اس کے مقدمہ میں صاحب کتاب لکھتے ہیں کہ ---- مولف کو معلوم تھا کہ سیرت کے موضوع پر لکھنے والوں نے بہت سی اہم کتابیں لکھی ہیں۔ مگر مولف نے اس کو اپنی سعادت سمجھا کہ وہ سیرت کے عظیم موضوع پر ایک نئی کتاب لکھے اور اس طرح وہ سیرت نگاروں کی اس نورانی لڑی میں شامل ہو جائے : وكان يرى السعادة فى تالیف كتاب جديد فى السيرة النبوية لينخرط فى سلك المؤلفين النوراني في هذا الموضوع الحبيب الجليل۔ (صفحه ۱۰) ظاہر ہے کہ یہ مطالعہ کا کوئی علمی طریقہ نہیں۔ اس طرز مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیرت کا موضوع مسلمانوں کے درمیان علمی و فکری ارتقاء کا ذریعہ نہ بن سکا۔ وہ صرف عقیدت مندانہ جذبات کی تسکین یا فخر و مباہات کے اظہار کا ذریعہ بن کر رہ گیا۔ موجودہ زمانہ میں سیرت کے موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ زیادہ تر اسی نوعیت کی ہیں۔ وہ مسلمانوں کے لئے کتاب فخر تو ضرور ہیں، مگر وہ حقیقی معنوں میں ان کے لئے کتاب اسوہ یا کتاب رہنمائی نہیں۔ چند مثالیں ہمارے سیرت نگار جب سیرت کے موضوع پر لکھتے ہیں تو وہ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ بعثت سے قبل عرب کی حالت کی نہایت تاریک تصویر پیش کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ بعثت سے قبل سارا عرب تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اخلاقی اعتبار سے لوگ وحشی بنے ہوئے تھے۔ درجنوں عورتوں سے نکاح کر کے ان کو اپنے گھر میں رکھ لیا کرتے تھے۔ لڑکیوں کے پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page