Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کی باتیں پیغمبر اسلام ﷺ کے کارنامے کو نمایاں کرنے کے لئے لکھی جاتی ہیں۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب تک عربوں کو آخری حد تک برا ثابت نہ کیا جائے، پیغمبر اسلام کی عظمت ظاہر نہیں ہو سکتی۔ مگر یہ نہ صرف تاریخ کے خلاف ہے بلکہ خود قرآن و حدیث کے خلاف بھی۔ اس طرح کی باتوں کا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں میں علمی نقطہ نظر پیدا نہ ہو سکا۔ مسلمان حقیقت پسند قوم بننے کے بجائے پر اسرار خیالات میں جینے والی ایک قوم بن گئے۔ کسی بھی حقیقت کو علمی اور تاریخی حیثیت سے سمجھنا ان کے لئے ممکن نہ رہا۔ ان کے اکابر تک کا یہ حال ہے کہ وہ صرف پر اسرار اصطلاحوں میں سوچنا جانتے ہیں۔ سائنٹفک اصطلاحوں میں سوچنا ان کے لئے ممکن ہی نہیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو بہترین لوگوں میں پیدا کیا (الأنعام ۱۲۴) اس کی مزید تفصیل روایات میں آئی ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ : اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا پھر مجھ کو بہترین انسانوں میں اٹھایا (ان اللہ خلق الخلق فجعلنی فی خیر خلقه) تفسیر ابن کثیر ۱۷۳/۲ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ جن عربوں کے اندر مبعوث کئے گئے وہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے پوری دنیا میں سب سے بہتر لوگ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی لئے یہ ممکن ہوا کہ آپ ایک ایسا انقلاب لائیں جس کی نظیر تاریخ میں موجود نہیں۔ اگر عرب کے یہ لوگ ویسے ہی برے ہوتے جیسا کہ ہماری کتابوں میں بتایا جاتا ہے تو اصحاب رسول کی وہ اعلیٰ ٹیم ہی نہ بنتی جس کو قرآن میں خیر امت کہا گیا ہے (آل عمران ۱۱۰) اور جس کی وجہ سے دین توحید کی عظیم تاریخ وجود میں آئی۔ یہی وہ حقیقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page