Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

بھڑکائے۔ فرد اگر قائد کی حیثیت میں ہے تو اس کو ہر حال میں جماعتی مصالح کا لحاظ کرنا ہے۔ اور اگر وہ قائد کی حیثیت میں نہیں ہے تب بھی اس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی زبان و قلم سے لوگوں کو پر خطر اقدام کے لئے اکسائے۔ ایک شخص ذاتی طور پر پر خطر اقدام کر سکتا ہے مگر دوسروں کو پر خطر اقدام پر اکسانا ہر گز اس کے لئے جائز نہیں۔ حسین کا نمونہ نتائج کا اندازہ کئے بغیر پر جوش اقدام کی مثال رسول کے اسوہ میں موجود نہیں۔ تاہم کچھ لوگ اس کو نواسۂ رسول کے اسوہ سے درست ثابت کرتے ہیں۔ یہ حسین بن علی کے اقدام کا واقعہ ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ امام حسین کی طاقت بنو امیہ کی فوجوں سے بہت کم تھی اس کے باوجود جب انہوں نے حق کی پامالی کو دیکھا تو نتیجہ کی پرواہ کئے بغیر یزید کی فوجوں سے لڑ گئے اور اسی راہ میں اپنی جان دے دی۔ مگر حسین بن علی کی یہ تصویر غیر حقیقی اور سراسر خود ساختہ ہے۔ ان کی یہ تصویر شاعروں اور خطیبوں نے بنائی ہے۔ حقیقی تاریخ میں اس تصویر کا کوئی وجود نہیں۔ کسی بھی مستند تاریخ سے حسین بن علی کی یہ تصویر ثابت نہیں ہوتی۔ یہاں میں تین تاریخوں کا حوالہ دیتا ہوں۔ تاریخ طبری، الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، البدایہ والنہایہ لابن کثیر، تینوں تاریخوں میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ حسین بن علی جب کوفہ کے قریب پہنچے اور انہیں حالات کا علم ہوا تو وہ اس کے لئے تیار ہو گئے کہ واپس ہو کر دوبارہ مکہ چلے جائیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ حسین بن علی جب مکہ سے روانہ ہوئے تو وہ یزید سے لڑنے کے لئے روانہ نہیں ہوئے تھے۔ ان کے قافلہ میں تقریباً ڈیڑھ سو آدمی تھے ان میں عورت اور بچے حتیٰ کہ مریض بھی شامل تھے۔ جنگ کے لئے نکلنے والا کوئی بھی آدمی ایسے قافلہ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page