پیغمبرانہ پالیسی
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
لے کر نہیں نکل سکتا۔ ان کی مکہ سے روانگی کا سبب صرف یہ تھا کہ انہیں اہل کوفہ کی طرف سے پیغام ملا تھا کہ آپ کوفہ آ جائیں ہم آپ کو اپنا امام بنانے کے لئے تیار ہیں۔ اس خبر کے مطابق، وہ مکہ سے کوفہ کے لئے روانہ ہوئے۔ البدایہ والنہایہ (الجزء الثامن) میں نہایت تفصیل کے ساتھ حسین بن علی کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب کربلا کے قریب پہنچ کر ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ان کے نمائندہ مسلم بن عقیل کو کوفہ کے اموی حاکم نے قتل کر دیا ہے اور اہل کوفہ حسین کے ساتھ اپنی وفاداری ختم کر چکے ہیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جہاں سے آئے تھے وہیں دوبارہ واپس چلے جائیں۔ مگر تاریخ کی قطعی شہادت کے مطابق کوفہ میں مقیم اموی فوج نے ان کا راستہ روک دیا اور ان کے قتل کے در پے ہو گئے۔ اس وقت ، طبری اور دوسرے مؤرخین کی روایت کے مطابق، حسین بن علی نے اموی حاکم سے کہا کہ ، اے عمر، میری طرف سے تم تین میں سے ایک بات کو قبول کرو۔ یا تو تم مجھ کو چھوڑ دو کہ میں واپس چلا جاؤں جیسا کہ میں آیا تھا، اگر تم اس کو نہ مانو تو مجھ کو یزید کے پاس لے چلو پس میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دوں تو وہ میرے بارے میں جو چاہے فیصلہ کرے اگر تم اس کو بھی نہ مانو تو مجھے ترک کی طرف لے چلو تا کہ میں ان سے جنگ کروں یہاں تک کہ میں مر جاؤں۔ فقال له الحسين : يا عمر اختر منى احدى ثلاث خصال ، اما ان تتركني ارجع كما جئت ، ان ابيت هذه فسيرني الى يزيد فاضع يدى في يده فيحكم في ما رای ، فان ابيت هذه فسيرني الى الترك فا قاتلهم حتى اموت (البداية والنهاية لابن كثير - ۱۷۰/۸)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader