Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

خوف اور اندیشہ کے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپ کر اور اپنا بچاؤ کرتے ہوئے ہجرت کی۔ کیا عمر رسول اللہ سے زیادہ جرأت مند تھے۔ اس کا سبب انفرادی اقدام اور اجتماعی اقدام کا فرق ہے۔ اگر چہ اسلام میں دونوں ہی کے لئے یہ مطلوب ہے کہ جب بھی کوئی اقدام کیا جائے، ہوشمندانہ انداز میں کیا جائے، فوری جذبہ کے تحت پر جوش اقدام اسلام میں پسندیدہ نہیں۔ تاہم فرد کو اس معاملہ میں یہ اجازت ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی ذات کی حد تک اس قسم کا اقدام کر سکتا ہے۔ اس کا یہ اقدام مکمل طور پر شخصی ہو گا جو دوسروں کے لئے ہرگز نمونہ نہیں۔ حضرت عمر نے جس انداز میں ہجرت کی وہ ان کا ایک ذاتی فعل تھا مگر پیغمبر اسلام ﷺ کی حیثیت محض ایک فرد کی نہیں تھی۔ وہ پوری ملت اسلامی کے قائد تھے۔ آپ کا ہر اقدام پوری امت کے لئے نمونہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جو کچھ آپ کریں وہی ہمیشہ کے لئے تمام مسلمانوں کو کرنا تھا۔ جب معاملہ اجتماعی اقدام کا ہو تو وہاں وہی کیا جائے گا جو رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے وقت کیا، یعنی کامل احتیاط کے ساتھ اور حالات کی پوری رعایت کرتے ہوئے اقدام کرنا۔ اس سے یہ اصول اخذ ہو تا ہے کہ کسی پیش آمدہ معاملہ میں اگر کوئی شخص اپنی ذاتی بنیاد پر ایک پر خطر اقدام کرے تو اس کو ایسا کرنے کی اجازت ہو گی۔ اگر چہ فرد کے لئے بھی اس قسم کا اقدام صرف ایک رخصت ہے نہ کہ عزیمت۔ مگر جب معاملہ جماعت کا یا امت کا ہو تو ایسی حالت میں نتیجہ کی پرواہ کئے بغیر پر خطر اقدام کرنا ہر گز جائز نہیں، فرد کے لئے بھی مذکورہ حق صرف ذاتی عمل کے درجہ میں ہے نہ اس کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ تقریر یا تحریر کے ذریعہ لوگوں کو پر جوش اقدام پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page