پیغمبرانہ پالیسی
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ حسین بن علی کے نام پر جس خود ساختہ سیاسی جہاد کو جائز قرار دیا گیا ہے اس کا حسین کے نمونہ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک مفروضہ حسین کا خیالی نمونہ ہے نہ کہ حسین بن علی کا وہ حقیقی نمونہ جو معتبر تاریخ کی کتابوں سے ثابت ہوتا ہے۔ اسٹیٹس کو ازم پیغمبر اسلام ﷺ کی پالیسی کا ایک اہم اصول اسٹیٹس کو ازم تھا۔ اسٹیٹس کو ازم کا مطلب حالت موجودہ کو مان لیناہے۔ مگر پیغمبر اسلام کا اسٹیٹس کو ازم سادہ طور پر یہ نہیں تھا کہ جو مروجہ صورت حال ہے اس کو ہمیشہ کے لئے مان لیا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ ڈھانچہ سے تعرض نہ کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالا جائے۔ یہ ایک منصوبہ بند طریق کار تھا نہ کہ کسی قسم کا جمود یا تعطل۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس اصول کو اپنی زندگی کے مکی دور میں بھی استعمال فرمایا اور مدنی دور میں بھی۔ یہ ان اسباب میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے آپ کو تئیس سال کی قلیل مدت میں ایسی عظیم کامیابی ملی جو پوری تاریخ میں کبھی کسی شخص کو حاصل نہیں ہوئی۔ اس اسٹیٹس کو ازم کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو فی الفور کام کا موقعہ مل جاتا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ اپنی طاقت کا کوئی جزء ضائع کئے بغیر اس کو بھر پور طور پر اپنے مشن کے لئے استعمال کرے۔ وہ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچتے ہوئے اپنے آپ کو آخری حد تک نتیجہ خیز عمل میں لگا دے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کا مشن توحید کو قائم کرنا تھا۔ جب آپ مکہ میں مبعوث ہوئے تو اس وقت عملی صورت حال یہ تھی کہ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader