Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

توحید کے گھر میں بتوں کی یہ موجودگی آپ کے مشن کے سراسر خلاف تھی مگر آپ نے ان بتوں کے ساتھ عملی تعرض سے اجتناب کیا اور صرف نظری توحید کی تبلیغ میں لگ گئے۔ یہ گویا کعبہ کے مسئلہ میں اسٹیٹس کو ازم کے اصول کو اختیار کرنا تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ کو یہ موقع مل گیا کہ ۱۳ سال تک آپ لوگوں کو توحید کی بات بتاتے رہیں۔ انہیں ۱۳ سالوں کے درمیان آپ کو یہ عظیم کامیابی حاصل ہوئی کہ مکہ کے تقریبا دو سو بہترین افراد آپ کو حاصل ہوگئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کا ساتھ دے کر اسلام کی تاریخ بنائی۔ مکی دور کے آخر میں آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا جو کہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ ان کے انتقال کے بعد آپ قبائلی حمایت سے محروم ہو گئے۔ یہاں بھی آپ نے مکہ کی موجودہ حالت کو استعمال کر کے اپنے لئے ایک حامی حاصل کیا۔ یہ مطعم بن عدی تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مطعم بن عدی ایک مشرک تھے۔ مگر آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں مشرک کی حمایت میں نہیں رہوں گا بلکہ ان کے مشرک ہونے کے باوجود ان کی حمایت کو قبول کر لیا۔ اس لئے کہ حالت موجودہ سے اس کی گنجائش نکل رہی تھی۔ ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ پہنچے تو وہاں مسلمانوں کے ساتھ مشرک اور یہودی بھی موجود تھے۔ مگر آپ نے وہاں جو نظام بنایا اس میں یہ کوشش نہیں کی کہ پہلے مشرکوں اور یہودیوں کو مدینہ سے نکالوں۔ اس کے بعد ہم یہاں اپنا نظام بنائیں گے۔ بلکہ موجود معاشرہ کی بنیاد پر ایک نظام کے قیام کا اعلان کر دیا جس کو صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس صحیفہ میں یہ لکھا ہوا تھا کہ--- ہر قبیلہ کا معاملہ خود اس کی اپنی ان روایات کی بنیاد پر طے کیا جائے گا جو بروقت ان کے درمیان رائج ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page