Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ پالیسی

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابراہیم (اور ان کے بعد اسماعیل) نے حج کا نظام قمری کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کیا تھا۔ جس کے سال کی مدت شمسی سال کی مدت سے کچھ کم ہوتی ہے۔ بعد کو مشرکین نے حج کے نظام کو بدل کر شمسی کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ پیغمبر اسلام مامور تھے کہ اس نظام کو بدل کر دوبارہ اس کو قمری کیلنڈر کی بنیاد پر قائم کریں۔ مگر آپ نے نہ مکہ کے قیام کے زمانہ میں یہ تبدیلی لانے کی کوشش کی اور نہ فتح مکہ کے فوراً بعد اس کا نفاذ کیا۔ بلکہ آپ اس کو قائم کرنے کے لئے تقریباً پوری عمر انتظار میں رہے یہاں تک کہ بعثت کے ۲۳ ویں سال جب فلکاتی اصول کے مطابق حج کا موسم اپنے آپ ذوالحجہ کے مہینہ میں آگیا تو اس وقت حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ اب ہمیشہ کے لئے حج کا فریضہ ذوالحجہ کے مہینہ میں ادا کیا جائے گا۔ یہ اسٹیٹس کو ازم پیغمبر اسلام کے یہاں اتنا زیادہ پایا جاتا ہے کہ بعض امور میں آپ نے کسی معاملہ کو اس کی موجود حالت ہی پر چھوڑ دیا، یہ جانتے ہوئے کہ اب میرے بعد کوئی اس کو بدلنے والا نہ ہوگا۔ اس کی ایک واضح مثال کعبہ کے ساتھ حطیم کا مسئلہ ہے۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل نے کعبہ کی صورت میں جو مسجد بنائی تھی اس میں موجودہ حطیم کا حصہ بھی شامل تھا۔ اس طرح ابراہیم کا تعمیر کردہ کعبہ لمبا تھا، جب کہ موجودہ کعبہ چوکور ہے۔ یہ چوکور کعبہ مشرکین نے بنایا تھا۔ ایک بار جب کعبہ کی قدیم عمارت گر گئی اور ا س کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئی تو مکہ کے مشرکین نے سامان تعمیر کی کمی کی بنا پر، اس کے آدھے حصہ کو تعمیر کیا اور بقیہ آدھے کو چھوڑ دیا۔ پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ کہتی ہیں کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں موجودہ کعبہ کو ڈھا کر اس کو دوبارہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page