Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام علیہ السلام سے پہلے بہت سے انبیاء مختلف قوموں اور علاقوں میں بھیجے گئے۔ یہ تمام انبیاء تاریخی اعتبار سے لامعلوم ہیں۔ کیونکہ ان پیغمبروں کے معاصرین نے اس زمانہ کی جو تاریخیں لکھیں ان میں انہوں نے ان پیغمبر وں کے نام یا کام کا اندراج ہی نہیں کیا۔ گویا ان مورخین کے نزدیک پیغمبر اور ان کے واقعات سرے سے قابلِ ذکر ہی نہ تھے۔ مثلاً حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ مگر عراق کی قدیم تاریخ میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ حضرت موسیٰ مصر میں پیدا ہوئے۔ مگر مصر کی قدیم تاریخ حضرت موسیٰ کے تذکرہ سے خالی ہے۔ حضرت مسیح فلسطین میں پیدا ہوئے۔ مگر فلسطین کی قدیم تاریخ حضرت مسیح کا کوئی حوالہ نہیں دیتی۔ پچھلے تمام پیغمبروں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ ان پیغمبروں کو اعتقادی طور پر تو مانا جاتا ہے مگر خالص تاریخی طور پر وہ کوئی ثابت شدہ شخصیت نہیں۔ ان میں سے کچھ پیغمبروں کا ذکر بابل میں ملتا ہے مگر بابل ایک اعتقادی کتاب ہے نہ کہ علمی معنوں میں کوئی تاریخی کتاب۔ مزید یہ کہ بابل میں جن انبیاء کا ذکر ہے ان کی شخصیت کو ایسے داغدار انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ اگر بابل کے بیان کو صحیح مان لیا جائے تو ان کے بارے میں یہی یقین کرنا مشکل ہو جائے گا کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے۔ حتیٰ کہ اس کے مطابق، وہ اخلاقی اعتبار سے بھی کوئی اعلیٰ نمونہ قرار نہیں پاتے۔ قرآن کی ایک حیثیت یہ ہے کہ اس نے تاریخ انبیاء کی ان گمشدہ کڑیوں کو دوبارہ معلوم واقعہ بنایا۔ انبیاء بلا شبہ تاریخ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page