Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانیت کے اعلیٰ ترین کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ناقص تاریخ نویسی کی بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کو بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات تو تفصیل کے ساتھ معلوم تھے۔ مگر تاریخ کے وہ قیمتی صفحات جن کا تعلق پیغمبروں سے ہے وہ انسان کے لئے سرے سے لامعلوم بنے ہوئے تھے۔ قرآن میں پہلی بار اس بند باب کو کھولا گیا۔ قرآن میں ایسا کیوں کیا گیا۔ بظاہر یہ کافی تھا کہ قرآن میں صرف اس دین کا ذکر ہوتا جس کو پیغمبر اسلام کے ذریعہ انسانیت پر کھولنا مطلوب تھا۔ دوسرے انبیاء کا تذکرہ جس تفصیل سے قرآن میں آیا ہے اس کے پیچھے یقینی طور پر کوئی خاص مصلحت ہونی چاہئے۔ یہ مصلحت خود قرآن میں واضح طور پر بیان کر دی گئی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں تقریباڈیڑھ درجن نبیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ابراہیم، اسحاق، یعقوب، نوح، داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، اسماعیل، الیسع، یونس، لوط۔ علیہم السلام (الانعام) ان نبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں یہ شہادت دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہدایت یافتہ تھا (کلا ھدينا) ان میں سے ہر ایک محسن اور صالح تھا۔ مزید یہ کہ ان میں سے ہر ایک کو اللہ نے سارے عالم پر فضیلت دی (كلا فضلنا على العالمين) پچھلے نبیوں کے نام بنام تذکرہ اور ان کے بارے میں مذکورہ شہادت کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو (اولئك الذين هدى الله فبهدا هم اقتده ) اس صراحت سے یہ معلوم ہوا کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کا تذکرہ کیوں کیا گیا ہے۔ اس کا سبب، قرآن کے بیان کے مطابق، یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اور اسی طرح آپ کی امت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page