Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

ان نبیوں کے حالات سے رہنمائی حاصل کرے۔ وہ ان کے نمونوں کو دیکھ کر یہ جانے کہ مختلف احوال کے لئے خدا کی صراط مستقیم کیا ہے اور اس پر کس طرح عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس مطالعہ میں قرآن کی ایک اور آیت شامل کرلی جائے تو یہ بات مزید واضح ہو جائے گی۔ قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں دوسرے نبیوں اور دوسری امتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا (لکل جعلنا منكم شرعة ومنها جا) المائدہ ٤٨ اس معاملہ کی تفصیل یہ ہے کہ خدا کا دین اگرچہ ایک ہے اور وہ توحید ہے، تاہم انسان کے احوال بدلتے رہتے ہیں، انفرادی اعتبار سے بھی اور اجتماعی اعتبار سے بھی۔ اس لئے دین کی وحدت کے باوجود اس کے عملی انطبا ق کے اعتبار سے اس میں فرق ہو تا رہتا ہے۔ احوال میں فرق کی بنا پر انطبا ق میں فرق کی یہی مصلحت ہے جس کی بنا پر مختلف نبیوں کے منہاج میں اختلاف ہو تا رہا ہے۔ انسانی نسل سارے کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی ہے۔ جب کہ ہر نبی، بشمول پیغمبر آخرالزماں، ایک مخصوص خطۂ زمین میں آئے۔ اس لئے عملی طور پر یہ نا ممکن تھا کہ کسی ایک نبی پر وہ سارے احوال گزریں جو وسیع تر سطح پر بنی نوع انسان کے اوپر گزرے یا آئندہ گزریں گے۔ یہی خاص مصلحت تھی جس کی بنا پر قرآن میں پچھلے نبیوں کا تذکرہ شامل کیا گیا۔ یہ انبیاء مختلف علاقوں اور مختلف قوموں میں آئے تھے۔ اس لئے فطری طور پر ان کے احوال میں تنوع پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک نبی کو لیا جائے تو اس کے یہاں وسیع تر انسانی سماج کے صرف جزئی احوال ملیں گے۔ لیکن جب مختلف حصوں میں آنے والے نبیوں کو بیک وقت سامنے رکھا جائے تو ان کے یہاں تمام انسانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page