پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
احوال کی مثالیں پانا ممکن ہو جائے گا۔ قرآن میں تاریخ انبیاء کی گمشدہ کڑیوں کو از سر نو انسان کے علم میں لانے کا خاص سبب یہی ہے۔ اس اعتبار سے قرآن میں ان کے احوال کا تذکرہ گویا اس واقعہ کا ایک حصہ ہے جس کو قرآن میں تکمیل دین کہا گیا ہے۔ (اليوم اكملت لكم دينكم) مختلف نبیوں کے درمیان منہاج کا فرق بربنائے ارتقاء نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ پہلے نبیوں کو نا قص منہاج دیا گیا اور بعد کو کامل منہاج کی تعلیم دی گئی۔ یہ فرق انطبا ق کی بنا پر ہے نہ کہ ارتقاء کی بنا پر۔ چونکہ مختلف نبیوں کے حالات جدا جدا تھے اس لئے اس کی نسبت سے ان کے منہاج میں فرق ہو گیا۔ اگر بعد کو دوبارہ ماضی والے حالات پیدا ہو جائیں تو پچھلا منہاج اسی طرح دوبارہ اختیار کیا جائے گا جس طرح وہ پہلے اختیار کیا گیا تھا۔ قرآن میں ایک طرف پیغمبر اسلام کی ۲۳ سالہ زندگی کا ذکر ہے اور دوسری طرف پچھلے ہزاروں سال کے درمیان آنے والے انبیاء کے احوال بھی مذکور ہیں۔ یہ دونوں ہی تذکرے یکساں طور پر قرآن کا حصہ ہیں۔ ان دونوں اجز اکے مجموعے سے ہی وہ کامل دین ترتیب پاتا ہے جس کا ذکر قرآن (المائدہ ۳) میں کیا گیا ہے۔ اس تمہید کے بعد اب چند مثالوں کی روشنی میں دیکھئے کہ پچھلے نبیوں کا تذکرہ کس طرح تکمیل دین کا ایک جز ہے۔ اور ہر قسم کے احوال میں اہل ایمان کو متنوع رہنمائی دیتاہے۔ ۱۔ اس قسم کا نمونہ حضرت آدم کے زمانہ ہی سے ملنا شروع ہو جاتا ہے جو کہ پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے دو بیٹوں میں ذاتی نوعیت کا ایک جھگڑا شروع ہوا۔ یہ جھگڑا بڑھا۔ یہاں تک کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader