Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

قتل کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اس موقع پر جو صالح بھائی تھا اس کی زبان سے قرآن میں یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اگر تم میرے قتل کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاؤ تو میں تمہارے قتل کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ (المائدہ ۲۸) اس سے پیغمبر اول کی شریعت معلوم ہوتی ہے۔ اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اول کے تربیت یافتہ ایک صالح انسان کا اسوہ کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام میں باہمی جنگ یکسر حرام ہے۔ اور اگر اہل اسلام میں باہمی جنگ کی نوبت آجائے تو دونوں فریق میں سے صالح فریق وہ ہے جو قتل ہو جائے مگر وہ اپنے بھائی کو قتل نہ کرے۔ اس اسوہ کی تصدیق خود پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے بھی ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے باہمی جنگ سے اہل اسلام کو کلی طور پر منع فرمایا: ایک شخص نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان مجھے قتل کرنے کے لئے آجائے تو اس وقت میں کیا کروں۔ آپ نے جواب دیا فلیکن خیر ابنی آدم - (تم آدم کے دوبیٹوں میں سے بہتر بیٹے بنو) ابوداؤد بحوالہ مشکاۃ المصابیح ۱۳۸۶/۳ حضرت آدم کی یہ شریعت جس کی تصدیق پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمائی، اس کا ایک عملی نمونہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کی زندگی میں ملتا ہے۔ جن کو کچھ مسلمانوں نے قتل کر ڈالا مگر طاقت رکھتے ہوئے انہوں نے ان مسلمانوں کے خلاف مسلح کارروائی کی اجازت نہیں دی۔ ۲-- قرآن میں حضرت ابراہیم کا ذکر کرتے ہوئے اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ ان کی زندگی میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے (الممتحنہ (٤) اس اسوہ حسنہ کے بہت سے پہلو ہیں یہاں ہم اس کے صرف ایک جز ء کا ذکر کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page