Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جس کی طرف حدیث کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : خیارکم فی الجاہلیة خیار کم فی الا سلام اذا فقھوا (فتح الباری ٤٧٧/٦) مطالعہ سیرت کے مذکورہ اسلوب نے پورے معاملے کو غیر علمی بنا دیا۔ مثلاً ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ بعثت سے پہلے عرب کے لوگ درجنوں کی تعداد میں بیویاں رکھتے تھے۔ دوسری طرف انھیں کتابوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ عرب اپنی لڑکیوں کو پیدا ہونے کے بعد مار ڈالتے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس سماج میں لڑکیاں زندہ درگور کی جا رہی ہوں وہاں عورتیں اتنی زیادہ تعداد میں کیسے پائی جائیں گی کہ لوگوں کو یہ موقع ملے کہ وہ لا محدود تعداد میں اپنے گھروں میں عورتیں رکھ لیں۔ اصل یہ ہے کہ زیادہ تعداد میں نکاح کرنے کا رواج صرف کچھ سرداروں میں تھا نہ کہ عام عربوں میں۔ اور یہ سردار بھی یہ عمل اس لئے کرتے تھے کہ مختلف قبائل سے رشتہ داریاں قائم کر کے انہیں اپنی سرداری کے تحت متحد کر سکیں۔ اسی رواج کو پیغمبر اسلام ﷺ نے بھی اسلام کے حق میں استعمال کیا۔ آپ نے بھی مختلف قبائل کی خواتین کو اپنے نکاح میں لیا تا کہ ان قبائل کو جنگ کے بغیر اسلام کا حامی بنا سکیں۔ جہاں تک لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا معاملہ ہے تو وہ صرف استثنائی طور پر بعض غریب قبائل میں تھا۔ عام عرب اس کو سخت معیوب سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ غریب خاندانوں کی مالی مدد کرتے تھے تا کہ وہ اس وحشیانہ رسم سے باز رہیں۔ اس سلسلہ کی ایک عام غلطی یہ ہے کہ بطور خود پیشگی طور پر یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ سب سے بڑا کارنامہ ’’باطل‘‘ سے ٹکرانا ہے۔ اس لئے پیغمبر کی وہی تصویر اعلیٰ تصویر ہے جس میں وہ لوگوں کے ساتھ بر سر جنگ نظر آئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page