Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابراہیم کی ایک دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں جو تہذیب رائج تھی اس نے لوگوں کے ذہن کو بالکل طور پر بگاڑ دیا تھا۔ سیکڑوں سال تک فرضی معبودوں کی عبادت کرنے کے نتیجہ میں ان کا یہ حال ہو گیا تھا کہ یہ معبودان کے لاشعور کا جز بن چکے تھے۔ حتیٰ کہ یہ نا ممکن ہو گیا تھا کہ ان معبودان باطل کی پرستش کے شہری مرکزوں میں کوئی انسان پیدا ہو اور وہ اس ماحول سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکے۔ (سورہ ابراہیم ۴۶) اس وقت حضرت ابراہیم نے تعمیر نسل کا ایک تاریخی منصوبہ بنایا۔ یہ ایک نئی اور محفوظ نسل کی تیاری کا منصوبہ تھا جس کی کوئی نظیر پچھلی تاریخ میں موجود نہیں۔ اس منصوبہ کے تحت آپ نے اپنے ایک چھوٹے بچے اسماعیل کو ان کی ماں کے ساتھ لے جاکر عرب کے صحرا میں بسادیا۔ یہ اس وقت کی متمدن بستیوں سے دور ایک غیر آباد دنیا تھی۔ یہاں صرف فطرت کا ماحول تھا۔ یہاں یہ ممکن تھا کہ مشرکانہ تہذیب کے ماحول سے منقطع ہو کر ایک ایسی نسل پرورش پائے جو اپنی خداداد فطرت پر قائم ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت اسماعیل نے بڑی عمر کو پہنچ کر ایک خانہ بدوش قبیلہ کی ایک صالح خاتون سے نکاح کیا۔ ان دونوں کے ملاپ سے اس صحرائی دنیا میں مطلوب نسل بنا شروع ہوئی۔ اس ماحول میں ذہن سازی یا تربیت کے لئے صرف دو چیزیں تھیں ۔۔۔۔ انسان کی پیدائشی فطرت اور خدا کی پیدا کی ہوئی وہ کائنات جس کو قرآن کے مطابق حق پر پیدا کیا گیا۔ (ابراہیم ۸۵) اس صالح ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک نئی نسل کی ابتدا ہوئی۔ اس نسل کے بننے میں تقریباً ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گئی تو اس کے اندر پیغمبر آخر الزماں ﷺ مبعوث کئے گئے۔ اسی تاریخی نسل سے وہ اعلیٰ افراد نکلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page