Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ قرآن میں ان کو خیر امت کہا گیا ہے۔ اور موجودہ زمانہ کے بعض مستشرقین نے ان کے غیر معمولی کارناموں کو دیکھ کر ان کو ” ہیر وئوں “ کی ایک قوم کا لقب دیا ہے۔ حضرت ابراہیم کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ اگر کسی زمانہ میں یہ مسئلہ پیدا ہو کہ غیر صالح تہذیب اس طرح چھا جائے کہ بظاہر ایسا معلوم ہو کہ جو لوگ اس ماحول میں پیدا ہوں گے وہ اس کے عمومی بگاڑ سے غیر متاثر نہ رہ سکیں گے ، اس وقت یہ کرنا چاہئے کہ دوبارہ زمین کا ایک ایسا گوشہ تلاش کیا جائے جہاں فاسد تہذیب کے اثرات نہ پہنچ رہے ہوں، یہاں بچوں اور نوجوانوں کو ٹھہر اکرا ن کی تعلیم و تربیت کا خصوصی انتظام کیا جائے۔ اس منصوبہ کو اگر درست طور پر عمل میں لایا جائے تو حضرت ابراہیم اور بنو اسماعیل کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ فطرت کی اس تربیت گاہ سے دوبارہ اعلیٰ انسانوں کی وہ ٹیم بن کر نکل سکتی ہے جو عالمی رخ کو بدل دے۔ اور تاریخ کا سفر دوبارہ صحت مند رخ پر شروع ہو جائے۔ ۳- اسی طرح قرآن میں ایک پیغمبرانہ قصہ وہ ہے جس کا تعلق حضرت یونس سے ہے۔ وہ عراق کے ایک قدیم شہر نینوا کی طرف بھیجے گئے وہاں کی قوم شرک میں مبتلا تھی۔ حضرت یونس نے انھیں توحید کا پیغام سنایا۔ ایک مدت تک دعوتی کام کرنے کے بعد انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے اور اب وہ اس سزا کی مستحق ہو چکی ہے جو انکار توحید کے نتیجہ میں کسی قوم کے لئے مقدر ہے۔ اس فیصلہ کے بعد وہ نینوا کو چھوڑ کر اس سے باہر چلے گئے۔ مگر اس کے نتیجہ میں جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ نینوا کی قوم تو جیسی تھی ویسی ہی باقی رہی اور حضرت یونس کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔ اچانک انہوں نے اپنے آپ کو مچھلی کے پیٹ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page