پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
پایا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ ایسا کیوں ہوا، اس کا سبب یہ تھا کہ کسی قوم کا منکر توحید ہونا اس وقت ثابت ہوتا ہے جب کہ اتمام حجت کی حد تک اس کے اوپر دعوت پہنچائی جا چکی ہو۔ صرف کچھ دنوں کا دعوتی کام کسی قوم کو منکر توحید قرار دینے کے لئے کافی نہیں۔ حضرت یونسؑ نے جب اپنا محاسبہ کیا تو ان پر یہ کھلا کہ انہوں نے دعوتی عمل کی تکمیل سے پہلے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ حالانکہ نبیوں کی سنت یہ ہے کہ وہ دعوتی عمل کو آخری حد تک مکمل کرنے کے بعد اپنی قوم کو چھوڑتے ہیں۔ اس احساس کے بعد انہوں نے استغفار کیا اور اللہ سے دعائیں مانگیں۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ مچھلی نے دوبارہ ان کو خشکی پر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم میں واپس گئے۔ انہوں نے قوم کو دوبارہ توحید کی طرف بلایا اس کے بعد تقریباً پوری قوم دین توحید میں داخل ہو گئی۔ اس پیغمبرانہ واقعہ میں اہل ایمان کے لئے ایک بے حد اہم سبق ہے۔ وہ قرآن میں اس طرح آیا ہے: پھر یونس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے کو ملامت کر رہا تھا۔ پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک وہ اس کے پیٹ ہی میں رہتا (الصافات ۱۴۲۔۱۴۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کی ذمہ داری کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔ دعوتی ذمہ داری میں کوتاہی کرنے والے کے لئے خدا کا قانون یہ ہے کہ اس کو ”بطن حوت“ میں ڈال دیا جائے۔ اور پھر اس وقت تک اس کو اس سے نجات نہ ملے جب تک کہ وہ توبہ کر کے اپنے دعوتی عمل کی طرف نہ لوٹے ۔ بصورت دیگر وہ اس بطن میں پڑا رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ غور کیجئے تو یہ مثال بعینہ موجودہ امت مسلمہ پر صادق آتی ہے، یہ امت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader