Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

سو سال سے زیادہ مدت سے مسائل کے بطن میں ہے، بیشمار کوششیں اور ان گنت قربانیاں بھی اس کو اس بطن سے نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں، مذکورہ اسوہ رسول کی روشنی میں اس کا واحد سبب یہ ہے کہ امت نے ایک عرصہ سے دعوت کا عمل چھوڑ رکھا ہے۔ حتی کہ دعوت کا شعور تک موجودہ مسلمانوں میں نہیں ہے۔ وہ قومی تحریکیں چلاتے ہیں اور اس کا نام دعوت رکھ دیتے ہیں۔ اس امت کے لئے مسائل کے بطن سے نکلنے کی راہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنی اس غلطی کا اعتراف کرے جو غیر مسلم قوموں پر دعوت کا عمل نہ کرنے کی صورت میں اس سے ہوئی ہے۔ یہ اس کے لئے توبہ کا عمل ہوگا۔ اس توبہ کے بعد پوری امت کو یہ کرنا ہے کہ وہ از سرِ نو دنیا کی قوموں پر دعوتِ عملی کو جاری کرے اور اس کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو اس کی تکمیل تک پہنچائے۔ ۴۔ قرآن میں حضرت موسیٰ کا قصہ بار بار بیان ہوا ہے۔ آپ کی زندگی میں بلاشبہ اہل ایمان کے لئے بہت سے سبق ہیں۔ یہاں میں ان میں سے ایک سبق کا ذکر کروں گا جس کا تجربہ مجھ کو ذاتی طور پر ہوا۔ میں نے ۱۹۳۸ میں اسلامی دعوت کا کام شروع کیا۔ مگر اس وقت یہ حال تھا کہ میں کسی مجمع میں بول نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ میں اپنی تقریر کو پیشگی طور پر لکھ لیتا اور اس کو جلسہ میں پڑھ کر سنا دیتا۔ اگر لکھی ہوئی تقریر میرے ہاتھ میں نہ ہو تو میرا یہ حال ہو تا کہ میرا دل دھڑکنے لگتا اور مجھ پر کپکپی طاری ہو جاتی اور میں مافی الضمیر کو الفاظ سے ادا کرنے میں قاصر ہو جاتا۔ یہ سلسلہ تقریباً پندرہ سال تک جاری رہا۔ میرے بارے میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ وہ جلسوں میں تقریر نہیں کرتے بلکہ مقالہ سناتے ہیں۔ ۱۹۶۲ وہ سال ہے جب کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page