پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریری خطاب کے دور سے نکل کر تقریری خطاب کے دور میں داخل ہوا۔ ۱۹۶۲ میں اعظم گڑھ کے ایک قصبہ انجان شہید میں جماعت اسلامی ہند کا ضلعی اجتماع تھا۔ مجھے اس میں بولنا تھا۔ مگر خلاف معمول میں نے اس موقع کے لئے کوئی تحریر تیار نہیں کی تھی، جب میری باری آئی تو میں دیوانگی کے عالم میں کھڑا ہو گیا۔ مجھے حضرت موسیٰ کی دعا اور خدا کی طرف سے اس کا جواب یاد آیا۔ میں نے مجنونانہ انداز میں کہا۔ قرآن کوئی تاریخی کتاب نہیں۔ وہ ایک زندہ رہنما ہے۔ اس میں جو واقعات بتائے گئے ہیں وہ ہم سے بھی اتنے ہی متعلق ہیں جتنا وہ اس قدیم شخصیت سے متعلق تھے جن کے حوالہ سے ان کو قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔ پھر میں نے حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بندہ خدا اگر اپنے کو تقریر میں عاجز پائے اور حضرت موسیٰ کی زبان میں یہ کہہ پڑے کہ: (اللهم) یضیق صدری ولا ینطلق لسانی (الشعراء ۱۳) تو مجھے یقین ہے کہ دوبارہ خدا کی طرف سے یہ آواز آئے گی کہ: قدا وتیت سؤلک یا موسی (طه۔ ٣٦) یہ واقعہ میری زندگی میں نقطہ انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد میرا سینہ کھل گیا اور میں بڑے بڑے جلسوں میں تقریریں کرنے لگا۔ خدا کے فضل سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ حضرت موسیٰ کی زندگی میں جو عظیم سبق ہمارے لئے موجود ہے اس کے سلسلے میں یہ شخصی تجربہ کی ایک مثال ہے، اسی طرح آپ کی زندگی میں سبق کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں جو قیامت تک اہل ایمان کے لئے رہنمائی کا کام دیتے رہیں گے۔ ۵-- اسی طرح حضرت مسیح کا ذکر بھی قرآن میں بار بار آیا ہے۔ آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں اہل ایمان کے لئے بہت سے نمونے ہیں۔ ان میں سے ایک نمونہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader