Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ ”میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو۔ جو تم سے عداوت رکھیں ان کا بھلا کرو، جو تم پر لعنت کریں ان کے لئے برکت چاہو، جو تمہاری تحقیر کریں ان کے لئے دعا کرو، جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چغہ لے اس کو کرتا لینے سے بھی منع کر۔ جو کوئی تجھ سے مانگے اسے دے اور جو تیرا مال لے لے اس سے طلب نہ کر“ (لوقا باب ۶ آیت ۲۷ تا ۳۰) حضرت مسیح نے اپنے ان الفاظ میں کسی انفعالی روش کی تعلیم نہیں دی ہے، یہ دراصل آداب دعوت کا بیان ہے۔ داعی ہمیشہ یک طرفہ اخلاق کا پابند ہوتا ہے۔ داعی اگر جوابی اخلاق کا انداز اختیار کرے تو وہ معتدل فضا ہی ختم ہو جائے گی جس کے اندر ردِ عوتی عمل جاری ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے اسوہ سے بھی اس کی واضح تصدیق ملتی ہے، مثال کے طور پر حضرت صہیب رومی کے واقعہ کو لیجئے۔ انہوں نے آخری زمانہ میں مکہ سے ہجرت کی جب وہ مکہ چھوڑ کر باہر آئے تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے انہیں پکڑ لیا، انہوں نے کہا کہ تم نے مکہ میں جو کمائی کی ہے اسے لے کر ہم تمہیں مدینہ نہیں جانے دیں گے، حضرت صہیب کے پاس اس وقت کچھ دینار تھے، انہوں نے کہا کہ اگر میں تم کو یہ سونے کے سکے دے دوں تو کیا تم مجھ کو جانے دو گے۔ نوجوانوں نے کہا کہ ہاں، اس کے بعد انہوں نے وہ دینار نکالے اور اسے نوجوانوں کے حوالہ کر دیئے، جب وہ مدینہ پہنچے اور پیغمبر اسلام ﷺ کو مذکورہ قصہ کا علم ہوا تو پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا۔ صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کامیاب رہی (ربح صہیب ربح صہیب) سیرت ابن ہشام ۸۹/۲

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page