پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو جس اخلاق کی تلقین کی وہی اہل اسلام کے لئے بھی مطلوب اخلاق ہیں۔ یہ دعوت کے وہ لازمی آداب ہیں جنھیں داعی کو اپنے مدعو کے سلسلہ میں اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس قسم کے یکطرفہ اخلاق کے بغیر دعوتی عمل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ۶-- حضرت یوسف واحد پیغمبر ہیں جن کا قصہ قرآن کی ایک پوری سورہ میں بیان کیا گیا ہے (یوسف) یہ قصہ بیان کرنے کے بعد آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو بتا رہے ہیں۔ یعنی انسانی تاریخ کا یہ ایک گم شدہ صفحہ تھا جس کو ہم نے تمہارے لئے کھولا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عقل اس سے نصیحت لیں (یوسف) اسی طرح قصہ کے آخر میں حضرت یوسف کی زبان سے بتایا گیا ہے کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ ایسے محسنین اور اعلیٰ کردار کے لوگوں کے عمل کو ضائع نہیں کرتا (یوسف ۹۰) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف کے یہاں جس کردار کی مثال ملتی ہے وہ تقویٰ اور صبر کے اصول کا ایک انطباق تھا۔ اور تقویٰ اور صبر کے اصول کو جہاں بھی زیر عمل لایا جائے وہاں یقینی طور پر اس کے اعلیٰ نتائج مرتب ہوں گے۔ حضرت یوسف کے مذکورہ قصہ میں عبرت و نصیحت کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں ہم اس کے صرف ایک پہلو کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یوسف کا واقعہ مصر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی ۔ حضرت یوسف وہاں ایک غلام کی حیثیت سے داخل کئے گئے۔ پھر کسی سیاسی جرم کی بنا پر نہیں بلکہ بعض غیر سیاسی اسباب نے انہیں جیل تک پہنچادیا۔ اس کے بعد خواب کے ایک واقعہ نے حالات میں انقلابی تبدیلی پیدا کردی۔ بادشاہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader