پیغمبر اسلام اور دیگر انبیاء
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
نے حضرت یوسف کی تعبیر خواب سے متاثر ہو کر ان کو اپنی حکومت میں ایک ایسے عہدہ کی پیش کش کی جس کو آج کل کی زبان میں وزارت غذا کہا جا سکتا ہے۔ بادشاہ کی یہ پیش کش اصلا وزیر غذا یا وزیر زراعت کی تھی۔ مگر چونکہ یہ زرعی دور کا واقعہ ہے اور اس زمانہ میں تمام قومی معیشت زراعت ہی پر مبنی ہوا کرتی تھی، سلطنت کے تمام شعبوں میں زراعت کو کلیدی اہمیت حاصل ہوتی تھی، اس لئے عملا ایسا ہوا کہ حضرت یوسف کو بادشاہ کی سلطنت میں گویا وزیر اعظم کے عہدہ کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس واقعہ کا یہ پہلو بے حد سبق آموز ہے کہ حضرت یوسف توحید کے داعی تھے (یوسف ۳۹) اس کے باوجود انہوں نے مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی ماتحتی میں اس کی سلطنت کا ایک ذیلی عہدہ قبول کر لیا۔ یہ معاملہ کوئی غیر صحیح یا غیر معیاری معاملہ نہ تھا۔ خود قرآن کے مطابق، وہ مکمل طور پر تقویٰ اور صبر اور احسان کا ایک معاملہ تھا۔ اس سے دین توحید کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ موحد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عملی معاملات میں غیر موحدین کے ساتھ کوئی اشتراک کا معاملہ نہ کیا جائے۔ توحید کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ موحدین اور غیر موحدین کے درمیان اس وقت تک نزاع جاری رہے جب تک کہ غیر موحدین کا زور ٹوٹ نہ جائے اور کامل اقتدار موحدین کے ہاتھ میں آ جائے۔ حضرت یوسف کی مثال اس قسم کے کسی نظریہ کی صحت کی کھلی ہوئی تردید ہے۔ اس کے برعکس درست بات یہ ہے کہ ذاتی زندگی میں توحید پر اپنے عقیدہ کو پوری طرح مضبوط رکھتے ہوئے عملی اور اجتماعی معاملات میں دوسروں سے اشتراک، اور مفاہمت کا انداز اختیار کیا جائے۔ مزید گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ میں ہر ملک میں مسلمانوں کو جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader