Urdu book · مطالعہ سیرت

مطالعہ سیرت

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مفروضہ کی بنا پر ہمارے سیرت نگار ہمیشہ پیغمبر اسلام کو ایک لڑنے والے پیغمبر کے روپ میں پیش کرتے ہیں۔ حتی کہ سیرت کی کتابوں کے لئے اکثر مغازی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً مغازی ابن اسحق وغیرہ۔ مگر اصل حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پیغمبر اسلام کی حقیقی سیرت جنگ وجدال کی مثال نہیں ہے۔ بلکہ امن پسندی اور صبر واعراض کی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام کا مقصد لوگوں سے لڑنا یا ان کو ہلاک کرنا نہیں تھا بلکہ انہیں زندگی دینا تھا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔ یا ایہا الذین امنوا استجيبوا لله وللرسول اذا دعا كم لما يحييكم ۔(الانفال ۲۷) اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تم کو اس چیز کی طرف بلا رہا ہے جو تم کو زندگی دینے والی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کے ذریعہ جو دین لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے وہ مردہ دلوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ یہ پیغام اپنے اندر حیات بخشی کی صفت رکھتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے۔ او من كان ميتا فاحييناه وجعلنا له نوراً يمشى به فى الناس كمن مثله في الظلمات ليس بخارج منها کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ چلتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، وہ اس سے نکلنے والا نہیں۔ یہ اور اس طرح کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کا مشن بادشاہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page