Urdu book · مطالعہ سیرت

سنت حد میبہ

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

سنت حديبيه رسول اللہ ﷺ نے آغازِ نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں دعوتِ توحید کا کام کیا۔ مکہ آپ کا وطن تھا مگر مکہ والے آپ کے سخت دشمن ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ یہاں تک کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کے بعد آپ اور آپ کے اصحاب اللہ کے حکم سے مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ یہ گویا ایک قسم کی جلاوطنی تھی، بظاہر حالات اس کی کوئی امید نہ تھی کہ مکہ والے دوبارہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے کا موقع دیں گے۔ ان حالات میں ۶ھ میں آپ نے مدینہ میں ایک خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ امن کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور وہاں آزادانہ طور پر عمرہ اور قربانی کر رہے ہیں۔ اس خواب کے مطابق، یکم ذوالقعدہ ۶ھ کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ قافلہ خوشی خوشی آگے بڑھ رہا تھا۔ مگر جب وہ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچا تو اہل مکہ نے ان کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی قیمت پر آپ لوگوں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ دو ہفتہ تک حدیبیہ کے مقام پر ٹھہرے رہے۔ اس دوران اہل مکہ سے گفت و شنید جاری رہی۔ آخر کار یہ طے ہوا کہ آپ اور آپ کے اصحاب اس سال مکہ میں داخل نہ ہوں۔ بلکہ حدیبیہ سے ہی دوبارہ مدینہ واپس چلے جائیں۔ اگلے سال وہ پھر آئیں اور تین دن تک مکہ میں ٹھہریں۔ خاموشی کے ساتھ عمرہ کریں اور اس کے بعد فوراً واپس چلے جائیں۔ اس معاہدہ کے مطابق، رسول اللہ ﷺ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page