Urdu book · مطالعہ سیرت

سنت حد میبہ

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

سال وہ دوبارہ آئے اور قرارداد کے مطابق انہوں نے عمرہ کیا۔ حدیبیہ کے اس واقعہ سے رسول اللہ ﷺ کی ایک خاص سنت معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ ہے ۔۔۔ حالات سے غیر ضروری طور پر ٹکرانا۔ کسی معاملے کو عزت و وقار کا سوال نہ بنا کر اس کو سادہ حقیقت کے طور پر دیکھنا۔ جذبات سے اوپر اٹھ کر معاملے کو سمجھنا اور فریق ثانی کی رعایت کرتے ہوئے مسئلے کو حکیمانہ طور پر حل کرنا۔ اس پالیسی کو دوسرے لفظوں میں اسٹیٹس کو ازم بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسٹیٹس کو ازم کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ صورت موجودہ کو بدلے بغیر اس کو مان لیا جائے۔ اسٹیٹس کو ازم کوئی بے عملی نہیں، وہ عمل کی اعلیٰ ترین حکیمانہ شکل ہے۔ جب بھی دو فریقوں کے درمیان کوئی نزاع پیدا ہو تو یہ نزاع ایک خاص مقام پر آکر رک جاتی ہے۔ اب بظاہر دونوں فریق کے لئے آگے بڑھنے کی صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ صورت موجودہ کو توڑیں اور اس طرح اپنے لئے آگے کا راستہ نکالیں۔ ایسے موقع پر نادان لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کو اپنے لئے وقار کا سوال بنا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے صورت موجودہ کو تسلیم کر لیا تو اس سے میرا وقار مجروح ہو جائے گا۔ اپنے مفروضہ وقار کو بچانے کے لئے وہ ٹکراؤ کے طریقہ پر چل پڑتے ہیں مگر جس آدمی کے دل میں تقویٰ ہو وہ کبھی اس طرح کے معاملے کو وقار کا مسئلہ نہیں بناتا۔ تقویٰ اس کے لئے اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ وہ ایک ایسے ٹکراؤ سے اپنے آپ کو بچا لے جس کا نتیجہ مزید نقصان کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کی طرف سورہ الفتح کی آیت نمبر ۲۶ میں اشارہ کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page