سنت حد میبہ
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی جب کسی نزاعی معاملہ کو وقار کا مسئلہ نہ بنائے تو اس کے اندر سنجیدہ فکر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اپنی غیر جذباتی سوچ کے نتیجہ میں یہ جان لیتا ہے کہ اگر میں مقام نزاع سے ہٹ جاؤں تو میرے لئے دوسرے راستے پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ یہی واقعہ حدیبیہ میں پیش آیا، پیغمبر اسلام مکہ میں داخل ہونا چاہتے تھے، مگر قریش نے داخل ہونے نہیں دیا۔ قریش کی اس مخالفانہ روش کو آپ نے وقار کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ اس قابل ہو گئے کہ اسلامی قافلہ کو جنگ کے میدان سے ہٹا کر دعوت کے میدان میں سرگرم عمل کر دیں۔ صلح حدیبیہ (۶ھ) میں رسول اللہ ﷺ نے مخالفین اسلام کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر ان سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا تھا۔ اس بنا پر کچھ لوگوں کو یہ معاہدہ ذلت کا معاہدہ نظر آیا (سیرۃ ابن ہشام ۳/ ۳۶۵) مگر جب معاہدہ مکمل ہو گیا تو قرآن میں وہ سورہ اتری جس میں اس صلح کو فتح مبین (الفتح ۱) کہا گیا تھا۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ انسانوں نے اس کو حال کے اعتبار سے دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے مستقبل کے اعتبار سے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے: فعلم ما لم تعلموا (الفتح ۲۷) صلح حدیبیہ اپنے آغاز میں بظاہر ذلت اور پسپائی کا معاملہ نظر آتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو آئندہ ظاہر ہونے والے عملی نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا، اس لئے اس کو کھلی ہوئی فتح قرار دیا۔ مشہور تابعی ابن شہاب الزہری کہتے ہیں: فما فتح فى الاسلام فتح قبله كان اعظم منه - انما كان القتال حيث التقى الناس - فلما كانت الهدنة ووضعت الحرب وامن الناس بعضهم بعضا والتقوا فتفاوضوا فى الحديث والمنازعة ولم يكلم احد فى الاسلام يعقل شيئا الا دخل فيه

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader