سنت حد میبہ
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
ولقد دخل في تينك السنتين مثل من كان فى الاسلام قبل ذلك او اكثر ۔ قال ابن هشام والد ليل على قول الزهرى ان رسول الله ﷺ خرج الى الحديبيه فى الف واربعماة فى قول جابر بن عبدالله ثم خرج عام فتح مكة بعد ذلك بستين فى عشرة آلاف ( سيرة ابن هشام ۳۷۲/۳) حدیبیہ سے پہلے اسلام میں اتنی بڑی فتح کوئی نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے جہاں بھی وہ ایک دوسرے سے ملتے تھے تو ان کے درمیان جنگ کی نوبت آجاتی تھی۔ پھر جب ان میں مصالحت ہوئی اور لڑائی روک دی گئی اور لوگ ایک دوسرے سے امن میں ہو گئے اور باہم ملنے لگے تو ان کے درمیان آپس میں بات چیت اور تبادلہ خیال ہونے لگا۔ اس کے بعد جس شخص نے بھی اسلام کے بارے میں گفتگو کی اور وہ کچھ سمجھ رکھتا تھا تو وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ اور صلح کے بعد دو برسوں میں اتنے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جتنا کہ اس سے پہلے کی لمبی مدت میں داخل ہوئے تھے یا اس سے زیادہ ۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ زہری کے قول کا ثبوت یہ ہے کہ حدیبیہ کے سفر میں ، جابر بن عبد اللہ کی روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہزار چار سو آدمی نکلے تھے۔ مگر جب آپ دو سال بعد فتح مکہ کے لئے نکلے تو آپ کے ساتھ دس ہزار آدمی تھے۔ سنت حدیبیہ پیغمبر اسلام کی وہ سنت ہے جس کا نتیجہ ، قرآن کے الفاظ میں فتح مبین کی صورت میں ظاہر ہوا۔ جس نے اسلامی تحریک کو غلبہ کے دور میں داخل کر دیا۔ جس کے بعد اسلام کے لئے ایسے امکانات کھلے جو اس سے پہلے اس کے حق میں نہیں کھلے تھے۔ سنت حدیبیہ کیا ہے۔ سنت حدیبیہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ ۔۔۔۔ مسائل کو نظر انداز کیا جائے تا کہ مواقع کو استعمال کرنے کی فرصت حاصل ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader