سنت حد میبہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے اپنی دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ عسر کے ساتھ یسر موجود رہتا ہے ۔ (ان مع العسر یسرا) خود نظام فطرت کے مطابق ، اس دنیا میں ایسا ہے کہ جہاں مسائل ہوتے ہیں وہیں ایسے موافق مواقع بھی موجود رہتے ہیں جن کو استعمال کر کے بڑی بڑی کامیابی حاصل کی جاسکے۔ زندگی میں ناکامی کا سبب اکثر یہ ہوتا ہے کہ لوگ مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک رکاوٹیں ختم نہ ہوں، آگے کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔ مگر پیغمبر اسلام کی سنت اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنا عمل مسائل کے خلاف ٹکراؤ سے نہ شروع کیا جائے بلکہ مسائل سے صرف نظر کرتے ہوئے مواقع کے استعمال کی راہیں نکالی جائیں۔ حتیٰ کہ اس اسلوب پر کار بند ہونے کے لئے اگر مخالف کی یکطرفہ شرطوں کو ماننا پڑے تو اس کو وقتی سمجھ کر اسے بھی مان لیا جائے۔ "حدیبیہ" کے نام سے جو واقعہ پیش آیا وہ ایک متعین واقعہ ہے۔ وہ بظاہر سیرتِ رسول کے بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ حدیبیہ کی روح پیغمبر اسلام ﷺ کی پوری زندگی میں پائی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں جو سوچی سمجھی پالیسی اختیار کی وہ یہی حدیبیہ پالیسی تھی۔ حدیبیہ پالیسی اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ کسی صورت حال میں جو مشکلات ہوں ان کو نظر انداز کر نا اور ان مشکلات کے باوجود جو امکانات ہیں ان کو استعمال کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اس پالیسی کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ آپ نے کی دور میں بھی اسی اصول پر عمل فرمایا اور مدنی دور میں بھی۔ حدیبیہ اور اس قسم کے دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader