Urdu book · مطالعہ سیرت

سنت حد میبہ

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

واقعات میں صرف یہ فرق ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر یہ پالیسی دو طرفہ اعلان کے بعد اختیار کی گئی اور دوسری مثالوں میں یکطرفہ فیصلہ کے تحت۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ حالات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کر کے خود ہی اس طریقہ پر قائم ہو جانا جس کو ہم نے حدیبیہ پالیسی کہا ہے۔ مثلاً مکہ کے ابتدائی زمانہ میں آپ نے خفیہ طور پر تبلیغ کا کام کیا۔ اس کی صورت یہ نہیں تھی کہ مکہ کے مشرکین سے اس مسئلہ پر بات چیت ہوئی اور دو طرفہ فیصلہ کے تحت یہ طے پایا کہ آپ اعلان کے ساتھ تبلیغ نہ کریں بلکہ خفیہ انداز میں تبلیغ کریں۔ اس کے بجائے آپ نے خود ہی حالات کی رعایت کرتے ہوئے خفیہ تبلیغ کا انداز اپنا لیا۔ اسی طرح بعد کو جب آپ نے اعلان کے ساتھ توحید کی دعوت دی تو اس وقت بھی یہ نہیں ہوا کہ آپ اور مشرکین مکہ اکٹھا ہوں اور اس مسئلہ پر دونوں فریقوں کے درمیان گفتگو ہو اور پھر یہ طے کیا جائے کہ آپ بیت اللہ میں رکھے ہوئے بتوں کو کوئی ضرر نہ پہنچائیں، البتہ دعوتی انداز میں اپنی بات لوگوں سے کہیں ۔ بلکہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ہی اپنے آپ کو ایک حد کا پابند بنا لیا۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش کو چھوڑنے کا پیغام دینا مگر بیت اللہ میں رکھے ہوئے بتوں سے عملی ٹکراؤ نہ کرنا۔ اسی طرح جب آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں مسلمانوں کے ساتھ یہودی بھی آباد تھے۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ یہود سے بات چیت کر کے یہ طے کریں کہ مدینہ میں ہم اس طرح رہیں کہ ہم تمہارے اوپر اپنا طریقہ مسلط نہیں کریں گے، بلکہ تمہیں اپنے دین کی آزادی حاصل رہے گی۔ اس کے بجائے آپ نے حالات کے جائزہ سے سمجھا کہ اپنے لئے خود ہی ایک قابل قبول حد مقرر کر لیں تا کہ یہود سے غیر ضروری ٹکراؤ نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page