Urdu book · مطالعہ سیرت

سنت حد میبہ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن کثیر ۳۲۲/۲ حدیبیہ اسپرٹ یہ ہے کہ فریق ثانی سے نزاع کو ادا نڈ کرتے ہوئے غیر نزاعی میدان میں اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنا۔ یہ پالیسی صرف اس طرح چلائی جاسکتی ہے جب کے داعی یک طرفہ طور پر فریق ثانی کو وہ رعایت دینے کے لئے راضی ہو جائے جس کو فریق ثانی اس وقت اپنا حق سمجھتا ہے۔ اس قسم کی یک طرفہ رعایت کے بغیر حدیبیہ پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ ایسا ہی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے لئے یہ ممکن ہوا کہ آپ کم سے کم نقصان کو برداشت کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فائدے کو حاصل کر سکیں۔ سورۃ الفرقان ایک مکی سورہ ہے۔ یہ اس دور میں اتری جب کہ پیغمبر اسلام کو صرف دعوت کا حکم دیا گیا تھا اور آپ رات دن اسی میں مصروف رہتے تھے۔ اس وقت آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ: فلا تطع الکافرین وجاهد هم به جهادا كبيرا (الفرقآن ۵۲) پس تم منکروں کی بات نہ مانو اور اس کے ذریعہ سے ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو۔ اس آیت میں ”بہ“ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر (بڑا جہاد) کرو۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنے فارسی ترجمہ میں جہاد کبیر کا ترجمہ جہاد بزرگ کیا ہے۔ قرآن کوئی ”توپ و تفنگ“ کی چیز نہیں۔ اس لئے یہ آیت واضح طور پر مسلح جہاد کے لئے نہیں ہے بلکہ غیر مسلح جہاد کے لئے ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں اس سے مراد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page