سنت حد میبہ
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری اور نظریاتی جہاد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات کے ذریعہ لوگوں کے اوپر دعوتی عمل کرو۔ ہر قسم کے پر امن ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے قرآن کو لوگوں کے لئے قابل فہم بناؤ۔ قرآن کی صداقت کے ذریعہ لوگوں کے دل و دماغ کو مسخر کرو۔ یہ آیت واضح طور پر قتال کے مقابلہ میں دعوت کی برتری کو بتاتی ہے۔ اس کے مطابق جہاد کی دو قسمیں ہیں۔ جہاد صغیر اور جہاد کبیر۔ مسلح جہاد صغیر ہے اور اس کے مقابلہ میں پر امن دعوتی جہاد کبیر۔ "حدیبیہ" اسلام کی تاریخ میں اسی جہاد کبیر کی ایک عظیم مثال ہے۔ ہجرت کے بعد منکر گروہ کی طرف سے مسلح جنگ چھیڑ دی گئی۔ مومنین اور منکرین کے گروہوں کے درمیان کئی پر تشدد مقابلے ہوئے۔ مگر وہ فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکے کیونکہ اس وقت اصل نشانہ یہ تھا کہ مکہ دوبارہ اہلِ توحید کے قبضہ میں آ جائے، لیکن یہ نشانہ جنگوں کے ذریعہ پورا نہ ہو سکا۔ آخر کار ہجرت کے چھٹے سال پیغمبر اسلام ﷺ نے دونوں گروہوں کے درمیان امن کا وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ معاہدہ گویا پر تشدد مقابلہ کے میدان سے ہٹ کر پر امن دعوتی مقابلہ کے میدان میں آتا تھا۔ یہ حدیبیہ طریق کار نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ اس کے بعد دو سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا اور اہلِ ایمان کو یہ موقع ملا کہ وہ اس بلد حرام کو دوبارہ توحید کا مرکز بنا سکیں جو صدیوں سے شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ پیغمبر کی اس سنت حدیبیہ میں ہمارے لئے بہت بڑی رہنمائی ہے۔ گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں پھر وہی صورت حال پیش آ گئی ہے جو حدیبیہ کے وقت اسلامی تحریک کے دور اول میں پیش آئی تھی۔ یہاں سنت رسول ہمیں یہ رہنمائی دے رہی ہے کہ ہم اپنے آج کے حالات میں اس پیغمبرانہ پالیسی پر عمل کریں اور دوبارہ خدا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader