سنت حد میبہ
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر ، اور اللہ نے ان کو تقوی کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ قرآن کی یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی۔ تاہم قرآن کی دوسری آیتوں کی طرح، اس آیت کا ایک عمومی اور تو سیعی مفہوم ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت میں اسلام کی ایک ابدی تعلیم ملتی ہے۔ اس تعلیم کا تعلق اسی طرح بعد کے تمام زمانوں سے ہے جس طرح اسلام کی دوسری تعلیمات کا تعلق بعد کے زمانوں سے ہے۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں مختلف اسباب سے ایک فرد اور دوسرے فرد یا ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ٹکراؤ کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے موقع پر کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے، اس کو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے۔ اس کے مطابق، نزاعی صورت حال پیش آنے کے بعد کسی فرد یا گروہ کے لئے دو قسم کی ممکن روش ہوتی ہے۔ ایک، متقیانہ روش۔ اور دوسری، غیر متقیانہ روش۔ کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایسے موقع پر متقیانہ روش اختیار کریں۔ غیر متقیانہ روش اختیار کرنے والوں کے لئے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ ایسے مواقع پر غیر متقیانہ روش کیا ہے۔ اس کو یہاں ایک لفظ میں حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے۔ عربی میں تخی تخی کے معنی ہوتے ہیں تیز گرم ہونا۔ حمیٰ علیہ کے معنی ہیں غضب ناک ہونا۔ حمیت سے مراد کسی آدمی کے اندر پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جس کو غضب اور عصبیت جیسے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader