سنت حد میبہ
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ نزاعی صورت حال پیدا ہونے کے بعد عام لوگ فورا بھڑک اٹھتے ہیں۔ ان کے اندر منفی جذبات بیدار ہوجاتے ہیں۔ وہ اس حالت میں نہیں ہوتے کہ معاملہ کو ٹھنڈے ذہن کے تحت دیکھیں اور خالص اصول کی بنیاد پر اس کو طے کریں۔ جو لوگ اس قسم کی کیفیت میں مبتلا ہوں وہ قرآن کے مطابق، حمیت جاہلیت کا شکار ہوگئے۔ اس کے مقابلہ میں دوسری روش وہ ہے جس کو قرآن میں متقیانہ روش کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا خوف خدا انھیں اصول پسندی کی راہ سے نہ ہٹائے۔ جو مشتعل حالات میں بھی حق اور انصاف پر قائم رہیں ۔ جن کا فیصلہ دوسروں کی روش کے خلاف رد عمل کا نتیجہ نہ ہو بلکہ خود اپنے سوچے سمجھے ذہن کا نتیجہ ہو۔ قرآن کے مطابق، مذکورہ قسم کی غیر متقیانہ روش ایمان و اسلام کے سراسر خلاف ہے۔ جو لوگ ایسی روش اختیار کریں وہ خدا کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے مقابلہ میں متقیانہ روش خدا پرستانہ روش ہے۔ جو لوگ اس روش کو اختیار کریں ان کے بارے میں خالق کائنات کا فیصلہ ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ اسلام کے دور اول میں حدیبیہ کا واقعہ اس معاملہ کی ایک عملی مثال ہے۔ اس واقعہ میں ایک روش وہ ہے جو مکہ کے غیر مسلموں نے اختیار کی ۔ اور دوسری روش وہ ہے جو مدینہ کے اہل ایمان نے پیغمبر خدا کی قیادت میں اختیار کی۔ اب قیامت تک تمام دنیا کے انسان اس واقعہ میں اپنی اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ جو لوگ نزاعی معاملہ میں غیر متقیانہ روش اختیار کریں وہ عملاً اپنے آپ کو غیر مسلموں کی جماعت میں شامل کر رہے ہیں، اور جو لوگ متقیانہ روش اختیار کریں انھوں نے اپنے آپ کو اہل ایمان کی جماعت میں شامل کیا۔ اس سورہ کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے : انا فتحنا لك فتحا مبینا (الفتح ۱)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader