مطالعہ سیرت
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مشن سے مختلف ہے۔ ایک بادشاہ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مغلوب کر کے ان کے اوپر اپنی حکومت قائم کرے۔ اس لئے بادشاہ ہمیشہ "جنگ و تشدد" کا طریقہ اختیار کرتا ہے کیونکہ اس کا مقصد اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ لیکن پیغمبر کا مقصد لوگوں کے اوپر حاکم بننا نہیں تھا بلکہ لوگوں کے دل ودماغ کو بدلنا تھا۔ تاکہ وہ اعلیٰ روحانی زندگی گزاریں اور دنیا اور آخرت کی سعادت کے مستحق ہوں۔ پیغمبر لوگوں کو اپنے حریف یا دشمن کے طور پر نہیں دیکھتا۔ بلکہ وہ ان کو صرف انسان کے طور پر دیکھتا ہے۔ وہ ہر انسان کا ہمدرد ہوتا ہے۔ اس کے دل میں تمام لوگوں کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے ایک ماں اپنے بچوں کو دیکھتی ہے۔ پیغمبر کی خاص صفت شفقت علی الخلق ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ لوگ اس کے اوپر زیادتیاں کر رہے ہوں، لوگ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوں۔ پیغمبر آدمی کے اندر چھپی ہوئی فطرت کو جگانا چاہتا ہے۔ وہ ہر آدمی کے سینہ میں ربانیت کا باغ اگانا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہر شخص فکر و عمل کے اعتبار سے ایک صالح انسان بن جائے۔ اس قسم کا مقصد کبھی جنگ اور ٹکراؤ سے حاصل نہیں ہوتا۔ وہ اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ لوگ بگڑے ہوئے ہوں تب بھی ان کے ساتھ یک طرفہ طور پر محبت کا معاملہ کیا جائے ۔ لوگوں کے حال کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کو ان کے مستقبل کے اعتبار سے دیکھا جائے ۔ اس قسم کی مثبت روش پر قائم رہنا صبر واعراض کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لئے قرآن میں پیغمبر کو بار بار صبر اور اعراض کی تلقین کی گئی ہے۔ اسی کی ایک انتہائی صورت وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ ٦٠) کہا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader