پیغمبرانہ مشن
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے بن دیکھے، بے شک اللہ طاقت والا، زبردست ہے۔ اس آیت سے اگر قسط اور حدید کا لفظ لے لیا جائے اور یہ کہا جائے تو درست نہ ہو گا کہ اس آیت میں یہ اسلامی مشن بتایا گیا ہے کہ حدید (ہتھیار کی طاقت) کو استعمال کر کے قسط کا نظام دنیا میں قائم کیا جائے۔ یہ استدلال علمی حیثیت سے معتبر نہیں۔ اس لئے کہ آیت کے پہلے حصہ میں قسط کا لفظ اس مفہوم میں آیا ہے کہ ہر ایک کو یہ چاہیئے کہ وہ قسط کو جان کر اپنی زندگی کو اس کے اوپر ڈھال لے۔ بالمفاض دیگر یہ ایک لازم کا صیغہ ہے مگر مذکورہ تشریح میں اس کو متعدی کے معنی میں لے لیا گیا ہے۔ یعنی ”تم خود قسط پر قائم ہو“ کے جملے سے یہ مفہوم اخذ کر لیا گیا ہے کہ تم دوسروں کے اوپر قسط کا نظام قائم کرو۔ اس قسم کا استدلال غیر منطقی ہے، وہ علمی اعتبار سے قابل قبول نہیں۔ ۲۔ اس سلسلہ میں دوسرا اصول یہ ہے کہ پیغمبر کے مشن کا جو تصور متعین کیا جائے وہ پیغمبر کی دی ہوئی اصولی تعلیمات سے اخذ کیا جائے نہ کہ پیغمبر کے گرد بننے والی عملی تاریخ سے۔ اصولی تعلیمات ابدی ہوتی ہیں، جب کہ تاریخ سماجی یا انسانی حالات کے تحت بنتی ہے۔ اس بنا پر مشن کا تصور تاریخ کی روشنی میں نہیں بنایا جا سکتا، وہ صرف اصولی تعلیمات کی روشنی میں وضع کیا جائے گا۔ مثلاً کچھ لوگ پیغمبرانہ عمل کی ترتیب کا نقشہ اس طرح بناتے ہیں کہ۔۔۔ دعوت، ہجرت، جہاد، قیام ریاست۔ یہ تاریخ سے مشن کو اخذ کرنا ہے، قرآن وحدیث میں کہیں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرانہ مشن کی ابدی ترتیب یہ ہوگی کہ پہلے دعوت دی جائے گی، پھر ہجرت ہوگی، پھر جہاد (بمعنی قتال) کیا جائے گا، اور پھر اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader