پیغمبرانہ مشن
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
گا۔ یہ ترتیب ایک تاریخی واقعہ سے نکالی گئی ہے نہ کہ قرآن وحدیث کی اصولی تعلیمات سے۔ قرآن میں اس کے برعکس یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کا مشن اس طرح بھی تکمیل پذیر ہو سکتا ہے کہ ”قیام ریاست“ سے پہلے آپ پر موت آجائے یا آپ قتل کردیئے جائیں (آل عمران ۱۴۴) اس آیت کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اگر مدینہ یا عرب میں قیام ریاست سے پہلے آپ پر مذکورہ دومیں سے کوئی معاملہ گزر جائے تب بھی آپ کا پیغمبرانہ مشن پوری طرح مکمل ہوگا کیونکہ کوئی بھی پیغمبر اپنی مشن کی تکمیل کے بغیر دنیا سے اٹھایا نہیں جاتا۔ دوسری بات یہ کہ اس طرح کے واقعات تاریخ میں دہرائے نہیں جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کی چہار گانہ ترتیب نہ پیغمبر اسلام سے پہلے کسی نبی کے ساتھ پیش آئی اور نہ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کے کسی مصلح یا مجدد کے ساتھ اس کا اعادہ ہوا۔ اگر یہ ترتیب مشن کے لئے ابدی کورس کی حیثیت رکھتی ہو تو اسلام ایک وقتی اور زمانی مذہب ہو کر رہ جائے گا۔ مثلاً موجودہ نیشنل حکومتوں کے زمانہ میں ہجرت مکانی بڑے پیمانے پر سرے سے ممکن ہی نہیں۔ پھر مرحلہ ہجرت پر کس طرح عمل کیا جائے گا، اسی طرح جہاد بمعنی اقدامی جنگ اب عملاً ممکن نہیں کیونکہ اب ساری دنیا اقوام متحدہ کے نظام کے تحت آچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت تمام ممالک، بشمول مسلم ممالک، یہ دستخط کر چکے ہیں کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم پر حملہ نہیں کرے گی۔ اب مسلمہ عالمی معیار کے مطابق صرف ایک ہی جنگ جائز اور ممکن ہے، اور وہ وہی جنگ ہے جو واضح طور پر دفاع کی نوعیت رکھتی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader