پیغمبرانہ مشن
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کے مختلف اسباب مذکورہ ترتیب کے اعادہ کو عملاً نا ممکن بنا چکے ہیں۔ ایسی حالت میں اس تاریخی ترتیب کو ابدی ترتیب کہنا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ ہم یہ بھی اقرار کریں کہ اسلامی مشن کا عملی ظہور بشری تاریخ میں صرف ایک بار ہو سکتا تھا۔ اب دوسری یا تیسری بار اس کو اسی ترتیب کے ساتھ دہرانا عملی طور پر ممکن نہیں۔ ۳۔ اس سلسلہ میں ایک اور نہایت بنیادی چیز یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا جو مشن متعین کیا جائے وہ عین وہی ہو جو دوسرے پیغمبروں کا مشن تھا۔ آپ کے مشن کی کوئی بھی ایسی تعبیر جو دوسرے پیغمبروں کے یہاں نہ پائی جاتی ہو وہ بلا بحث قابلِ رد ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء بشمول پیغمبر آخرالزمان، ایک ہی مشن اور ایک ہی غایت کے لئے بھیجے گئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ تم اس دین کو قائم رکھو اور اس میں فرق نہ کرو۔ مشرکین پر وہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلا رہے ہو۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے۔ اور وہ اپنی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ (الشوریٰ ۱۳) اس آیت میں پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے تاریخ کے کچھ اولوالعزم، پیغمبروں کا نام لیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ جو دین ان کو دیا گیا تھا وہی دین تم کو بھی دیا گیا ہے۔ تم اسی واحد دین کی پیروی کرو اور اس معاملہ میں تفرق کا طریقہ نہ اختیار کرو۔ دوسری جگہ قرآن میں یکجا طور پر بہت سے نبیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ انبیاء مختلف مقامات پر اور مختلف زمانوں میں آئے۔ ان کا نام ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader