Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ مشن

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

اولئك الذين هدى الله فبهدهم اقتده (الانعام (۹۱) یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ اس آیت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام جن معنوں میں ہدایت یافتہ تھے، ٹھیک اسی معنی میں دوسرے پیغمبر بھی ہدایت یافتہ تھے۔ اس لئے پیغمبرِ اسلام کو بھی اپنے کار منصبی کو ادا کرنے کے لئے وہی فعل کرنا تھا جو دوسرے پیغمبروں نے انجام دیا۔ قرآن کے ان ارشادات کے مطابق، پیغمبرِ اسلام ﷺ کے مشن کا وہی تصور درست ہو سکتا ہے جو دوسرے پیغمبروں کے مشن کے مطابق ہو، کیونکہ تمام کے تمام پیغمبر ایک ہی مشن کے لئے بھیجے گئے۔ ایسی حالت میں پیغمبرِ اسلام کی مشن کی کوئی ایسی تعبیر جو دوسرے انبیاء سے مختلف ہو ہرگز درست نہیں ہو سکتی۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص یہ کہے کہ پیغمبر کے مشن کی تکمیل کے لئے قتال ایک لازمی جز ہے تو یہ بیان درست نہ ہوگا کیونکہ قرآن میں مذکور اکثر پیغمبروں کے یہاں قتال کا واقعہ نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبرِ اسلام نے غیر مسلم سیاسی نظام کے تحت کوئی عہدہ قبول نہیں کیا اس لئے ایسا کرنا ایک غیر پیغمبرانہ فعل ہے تو یہ بھی درست نہ ہوگا کیونکہ قرآن سے یہ ثابت ہے کہ حضرت یوسفؑ نے مشرک بادشاہ کے تحت ایک ایسا عہدہ قبول فرمایا جس کو آج کل کی زبان میں وزارتِ غذا کہا جا سکتا ہے وغیرہ۔ قرآن کے مطالعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام پیغمبروں کو ایک ہی دین دیا گیا۔ البتہ ہر ایک کی تاریخ الگ الگ بنی کیونکہ تاریخ ہمیشہ حالات کے اعتبار سے بنتی ہے۔ اس بنا پر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ پیغمبروں کی تعلیمات کی حیثیت اصولی دین کی ہے اور ان کی تاریخ اس کے مقابلہ میں دین کے اضافی جز کی حیثیت رکھتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page