Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ مشن

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرانہ مشن کو جاننے کے لئے قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو اس معاملہ میں سب سے زیادہ واضح آیت وہ ہے جو قرآن میں چار مقام پر آئی ہے۔ ایک جگہ حضرت ابراہیم کی دعا کے طور پر (البقرہ (۱۲۹) اور دوسرے مقامات پر عمومی انداز میں۔ آپ کی بعث کا مقصد بتاتے ہوئے اس آیت میں ارشاد ہوا ہے۔ هو الذى بعث فى الاميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين (الجمعة (۲) وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انہیں میں سے اٹھایا، وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ اس آیت میں وہ پوری بات بتادی گئی ہے جو پیغمبر کو اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے لئے اس دنیا میں انجام دینا ہے۔ پیغمبر کا کام اصلاحی چار ہوتا ہے جو اس آیت میں بتایا گیا ہے۔ ان چار باتوں کے علاوہ پیغمبر کی زندگی میں اور جو چیزیں نظر آتی ہیں وہ انہیں چاروں چیزوں کے تحت ظاہر ہونے والے واقعات ہیں۔ مذکورہ چار چیزیں اگر پیغمبر کے مقصد بعث سے تعلق رکھتی ہیں تو بقیہ چیزیں پیغمبر کے تاریخی احوال سے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مقصد بعث اصولی طور پر ہمیشہ ایک ہوتا ہے مگر اس مقصد کی ادائیگی کے دوران پیغمبر کے گرد جو تاریخ بنتی ہے وہ ہمیشہ مختلف ہوتی ہے، وہ کبھی یکساں نہیں ہو سکتی۔ ۱۔ اس سلسلہ میں پہلی چیز تلاوت آیات ہے۔ تلاوت آیات سے مراد خدا کے دین کی عمومی دعوت ہے۔ کوئی پیغمبر جب مبعوث کیا جاتا ہے تو اس کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے لوگوں کو خدا کا پیغام سنائے۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page