Urdu book · مطالعہ سیرت

پیغمبرانہ مشن

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے باخبر کرے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسری جگہ تاریکی سے نکال کر روشنی میں لانا بتایا گیا ہے۔ (ويخرجهم من الظلمات الى النور) المائدة ١٦۔ تلاوت آیات سے مراد یہ نہیں ہو سکتا کہ پیغمبر لوگوں کو پورا قرآن سناتا ہے۔ کیوں کہ دعوت کا یہ عمل پیغمبر کے ظہور کے بعد ہی شروع ہو گیا، جب کہ اس وقت پورا قرآن آج کی طرح مدون صورت میں موجود ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تلاوت آیات سے مراد اساسات دین کی تبلیغ ہے یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ دعوت کا عمل حقیقۃ اساسات دین سے لوگوں کو باخبر کرنے کا عمل ہے۔ شریعت کے تفصیلی احکام کا خطاب ایمان لائے ہوئے لوگوں سے ہے نہ کہ ان لوگوں سے جو ابھی دائرہ ایمان میں داخل نہیں ہوئے۔ ۲۔ پیغمبرانہ مشن کا دوسرا جز وہ ہے جس کو مذکورہ آیت میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ تزکیہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں تربیت کہا جاتا ہے۔ یعنی آدمی کی ذہنی سوچ اور اس کے قلبی میلانات کو اس طرح اصلاح یافتہ بنانا کہ وہ خدائی راستہ پر یکسوئی اور قلبی اطمینان کے ساتھ چل سکے۔ تلاوت آیات میں اگر داعی کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی بے خبری کو توڑے اور دلائل کے ساتھ ان کو اپنے پیغام کی صداقت پر مطمئن کرے تو تزکیہ کے عمل میں پیغمبر کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے ذہنی اتفاق کو عمل میں تبدیل کرے، وہ لوگوں کے روحانی احساس کو جگائے اور ان کے اندر حقیقی کردار کی صفت پیدا کرے۔ ۳۔ پیغمبرانہ مشن کا تیسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں تعلیم کتاب کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ تعلیم کتاب سے مراد شریعت کے احکام و قوانین کی تعلیم ہے۔ مثلا پہلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page