مطالعہ سیرت
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ یعنی اپنے مزاج کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کے مزاج کی رعایت کرنا۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنے مدعو لوگوں کے ساتھ ہر مرحلہ میں تالیفِ قلب کا یہی طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملہ میں آپ یہاں تک گئے کہ مدینہ میں داخلے کے بعد آپ نے تقریباً ڈیڑھ سال تک یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ یہ یہود مدینہ کی تالیفِ قلب کے لئے تھا، وہ اس امید میں تھا کہ وہاں کے یہودی آپ سے قریب ہوں، وہ آپ کی باتوں کو کسی توحش کے بغیر سنیں۔ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی) ۱۵۰/۲ مسلم مصنفین کے یہاں سیرت کے مطالعہ کا مقبول رجحان یہ ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کو کامل نمونہ قرار دیتے ہیں اور اسوۂ کاملہ کے عنوان کے تحت آپ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں یہ اسلوب نہ صرف غیر علمی ہے بلکہ وہ غیر قرآنی بھی۔ اسوۂ کاملہ کو اگر پیغمبرِ اسلام کی سیرت کے مطالعہ کا عنوان قرار دیا جائے تو پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تصور کا ماخذ کیا ہے۔ اس معاملہ میں علمی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن وحدیث سے یہ ثابت کیا جائے کہ آپ کے اسوہ کی حیثیت اسوۂ کاملہ کی تھی، یعنی کامل نمونہ۔ اگر قرآن وحدیث سے یہ تصور ثابت نہ ہو تو یہ ساری بحث ابتدائی طور پر ہی بے بنیاد قرار پائے گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ جن سیرت نگاروں نے اسوۂ کاملہ کو عنوان قرار دے کر آپ کی سیرت کا مطالعہ کیا ہے۔ ان میں سے غالباً کسی نے بھی اس ابتدائی علمی شرط کو پورا نہیں کیا۔ علمی نقطۂ نظر سے صحیح بات یہ ہے کہ قرآن میں پیغمبرِ اسلام ﷺ کو اسوۂ حسنہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ نہ کہ اسوۂ کاملہ کے طور پر۔ اسوۂ کاملہ کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر ایک معاملہ کے لئے خواہ وہ کسی زمانہ میں پیش آئے، آپ کی ذات میں اس کا براہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader